سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 260
بانگ می زنند۔260 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حالانکہ انہوں نے کہا کہ دیکھئے ! اس بیوی کے متعلق حضرت لکھتے ہیں: ہوگا۔کہ اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ مگر جب قدرت الہی نے وہ دوسری بیوی جس کے متعلق ان لوگوں نے امیدیں لگائی ہوئی تھیں حضور کے نکاح میں لائی پسند نہ کی خواہ اس کے اسباب کچھ ہی ہوں تو کیا اس کے معنی یہ ہو نگے ؟ کہ اب مصلح موعود کا ظہور میں آنا ہی جاتا رہا اور وہ ساری پیشگوئیاں منسوخ ہو گئیں۔اگر ایسا تسلیم کر لیا جائے تو پھر بتلاؤ کہ وہ تحدیاں کہاں جائیں گی اور پھر خدا تعالیٰ کا روشن چہرہ لوگوں کو نظر آنے کی بجائے لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ نہ ہو جائے گا؟ جس طرح بشیر اوّل جس کے متعلق خیال کیا گیا تھا کہ وہ مصلح موعود ہوگا، مصلح موعود نہ تھا۔اسی طرح کسی اور بیوی کا جب وجود ہی ظہور میں نہیں آیا تو اب کونسی بات حجاب کی رہی۔یہ چمکدار نشان خود بخود پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آنے لگتا۔خدا نے سب روکوں کو خود دور کر دیا۔بشیر اول کے متعلق شبہ تھا مگر خدا تعالیٰ نے اس شبہ کو دور کرنے کیلئے اُسے واپس بلا لیا۔پھر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے متعلق بھی ایسا ہی خیال پیدا ہوا۔مگر خدا تعالیٰ نے صاحبزادہ مبارک احمد کو بھی واپس بلا لیا۔پھر ایک شبہ یہ پیدا ہوا کہ شاید کسی اور بیوی سے پیدا ہو گا۔وہ بیوی ہی حضور کے گھر میں نہ آئی۔اب اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ اسی بیوی کے بطن سے اس کے زندہ رہنے والے بچوں میں اس مصلح موعود کو تلاش کریں۔یہ بالکل ایسی بات ہے کہ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلتہ القدر کی نسبت فرمایا کہ اسے رمضان میں تلاش کرو۔پھر فرمایا۔آخری عشرہ میں تلاش کرو۔پھر فرمایا۔آخری تین دنوں میں تلاش کرو۔بالکل اسی طرح مصلح موعود کے ساتھ جو مشتبہات لگے ہوئے ہیں۔وہ اس لئے کہ مومنوں کے ایمان کی پرکھ ہو سکے۔ورنہ بشیر اول کے بعد دیا جانے والالڑ کا جس کا نام محمود رکھا گیا جو مقام خلافت پر فائز ہوا۔جیسے آپ نے دوسرے طریق انزال رحمت میں تحریر فرمایا تھا جو حسن و احسان میں آپ کی نظیر ہے جو روشنی ہے جس کی وجہ سے ظلمتیں دور ہو گئیں۔حجاب پھٹ گیا اور اسلام کا نیز اعظم چمکتا ہوا ہمارے سروں پر آ گیا جو آپ کی نسل ، آپ کی ذریت اور آپ کے تخم سے ہے۔اس کے بعد