سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 207 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 207

207 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پنجم۔ایک بیوی کی موجودگی بھی روک تھی۔ششم۔حضرت صاحب اپنے رشتہ داروں میں تحریک کر ہی نہیں سکتے تھے۔کیونکہ اس مقصد عظیم کے پورا کرنے کے لئے آپ کے خاندان میں کوئی بھی گھرانہ ایسا نہ تھا جس میں دینداری کی روح پیدا ہوتی۔ان حالات اور وجوہ کی موجودگی میں آپ کا شادی کے لئے کوئی تحریک کرنا اور پھر اس کا کا میاب ہو جانا بہت مشکل تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں سب سامان خود ہی کروں گا۔اس الہام کا آخری فقرہ تھا : تمہیں کسی بات کی تکلیف نہ ہوگی، یعنی رشتہ کا انتخاب ،شادی کے لئے ضروریات کا مہیا کرنا سب کچھ ہم اپنے ذمہ لے لیں گے۔چنانچہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ویسے ہی ہوا۔ادھر آسمان سے یہ تحریک ہورہی تھی اُدھر حضرت میر ناصر نواب صاحب کو اپنی بلندا قبال صاحبزادی کے لئے رشتہ کی فکر تھی۔حضرت میر صاحب جو پہلے ہی دن سے دعاؤں میں لگے ہوئے تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی بیٹی کے لئے صالح داماد ملنے کی دعا کے لئے لکھا۔حضرت مسیح موعود کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی شادی کیلئے تحریکیں ہورہی تھیں۔یہ بھی بتلایا گیا تھا کہ رشتہ سادات میں ہوگا اور یہ بھی بتلایا گیا تھا کہ وہ خاندان دہلی میں سکونت پذیر ہے۔جب حضرت میر صاحب کی طرف سے دعا کی تحریک ہوئی۔تو آپ نے ایک خط حضرت میر صاحب کو لکھا اگر چہ اصل خط محفوظ نہیں۔مگر حضرت میر صاحب کا بیان ہے : اس کے جواب میں مجھے حضرت میرزا صاحب نے تحریر فرمایا کہ میرا تعلق میری بیوی سے گویا نہ ہونے کے برابر ہے اور میں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا تمہارا عمدہ خاندان ہے۔ایسا ہی تم کو سادات کے عالی شان خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا اور اس نکاح میں برکت ہوگی اور اس کا سب سامان میں خود بہم پہنچاؤں گا۔تمہیں کچھ تکلیف نہ ہو گی۔یہ آپ کے خط کا خلاصہ ہے۔اور یہ بھی لکھا کہ آپ مجھ پر نیک فنی کر کے اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دیں اور تا تصفیہ اس امر کو مخفی رکھیں اور رد کرنے میں جلدی نہ کریں۔۱۴۴ حضرت نانی اماں اس سلسلہ میں سیرۃ المہدی حصہ دوم میں بیان فرماتی ہیں: رض