سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 206
206 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ رہیں گے اور وہ اس مقصد وحید میں لگے رہیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے مقصود تھا۔ان الہامات سے اس نئے خاندان کی شان و عظمت کا پتہ چلتا ہے اور اس کی غرض و غایت معلوم ہوتی ہے۔یہ غرض اور یہ غایت اور یہ مقصد چونکہ پہلی بیوی سے پورا نہیں ہوسکتا تھا۔پہلی بیوی سے صرف دولڑ کے تھے۔یعنی حضرت میرزا سلطان احمد صاحب اور میر زافضل احمد صاحب۔اوّل الذکر محکمہ مال میں ملازم تھے اور آخر الذکر محکمہ پولیس میں ملازم تھے اور وہ اپنے دنیاوی کاروبار میں اس قدر منہمک تھے کہ اس مقصد کے لئے جس کا ذکر اوپر آچکا ہے کوئی وقت نہ دے سکتے تھے۔یہی نہیں بلکہ میرزا فضل احمد صاحب کو تو بیعت کرنے تک کا موقع نہ ملا اور حضرت میرزا سلطان احمد صاحب بھی حضرت مسیح موعود کی ساری زندگی میں بیعت نہ کر سکے۔اس لئے چونکہ پہلی بیوی اور اس کی اولا د سے وہ مقصد پورا نہ ہو سکتا تھا اس لئے ایک اور کی طرف توجہ ہوئی قدرتی امر تھا۔اس لئے جس قدرا ہم مقصد تھا اسی قدر اہم خاندان کی لڑکی کا انتخاب ضروری تھا۔سوالیسا ہی ہوا۔اس الہام میں تیسرا فقرہ یہ تھا کہ: 'سب کام میں خود ہی کروں گا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابتدائی زمانہ تو ایسا تھا کہ کسی کو آپ کا علم ہی نہ تھا۔آپ خود فرماتے ہیں : اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا ایسی گمنامی کی حالت میں رہنے والے انسان کے لئے نئی شادی کا انتظام کرنا کئی وجوہ سے بڑا مشکل تھا۔اول۔خاندان کے افراد جو موجود تھے وہ تو سب آپ کے دشمن تھے۔گھر کی مستورات کا یہ حال تھا کہ وہ اس قدر بھی پسند نہ کرتی تھیں کہ حضرت صاحب کو کوئی کھانے کی چیز ہی تحفہ کے طور پر پیش کر دے۔جیسے کہ نانی اماں کی روایت میں قبل از میں آچکا ہے۔چہ جائیکہ کوئی ان کو پہلی بیوی کی موجودگی میں اپنی بیٹی کا رشتہ دے۔دوم۔رشتہ داروں سے تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ اس وقت دنیا کے کاموں میں انہماک تھا۔جس سے حضرت اقدس کو دور کا بھی تعلق نہ تھا۔سوم۔حضرت اقدس کی جسمانی حالت کسی شادی کی طرف راغب نہ تھی۔چہارم۔عمر کا تفاوت بھی روک تھا۔