سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 208
208 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ایک خط میر صاحب نے تمہارے ابا کے نام لکھا کہ مجھے اپنی لڑکی کے واسطے بہت فکر ہے۔آپ دعا کریں کہ خدا کسی نیک آدمی کے ساتھ تعلق کی صورت پیدا کر دے۔تمہارے ابا نے جواب میں لکھا۔اگر آپ پسند کریں تو میں خود شادی کرنا چاہتا ہوں اور آپ کو معلوم ہے کہ گو میری پہلی بیوی موجود ہے اور بچے بھی ہیں۔مگر آج کل میں عملاً مجرد ہی ہوں۔وغیرہ ذالک۔میر صاحب نے اس ڈر کی وجہ سے کہ میں بُر امانوں گی مجھ سے اس خط کا ذکر نہیں کیا اور اس عرصہ میں اور بھی کئی جگہ سے تمہاری اماں کے لئے پیغام آئے لیکن میری کسی جگہ تسلی نہ ہوئی۔حالانکہ پیغام دینے والوں میں سے بعض اچھے اچھے متمول آدمی بھی تھے اور بہت اصرار کے ساتھ درخواست کرتے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ تمہارے نانا کے بہت تعلقات تھے۔انہوں نے کئی دفعہ تمہارے ابا کے لئے سفارشی خط لکھا اور بہت زور دیا کہ میرزا صاحب بڑے نیک اور شریف اور خاندانی آدمی ہیں۔مگر میری یہاں بھی تسلی نہ ہوئی کیونکہ ایک تو عمر کا بہت فرق تھا۔دوسرے ان دنوں میں دہلی والوں میں پنجابیوں کے خلاف بہت تعصب ہوتا تھا۔بالآخر ایک دن میر صاحب نے ایک لدھیانہ کے باشندے کے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے بہت اصرار کی درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی اسے رشتہ دے دو۔میں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی تو مجھے شرح صدر نہ ہوا اور میں نے انکار کیا۔جس پر میر صاحب نے کچھ ناراض ہو کر کہا کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے۔کیا ساری عمر اسے یونہی بٹھا چھوڑو گی۔میں نے جواب دیا کہ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے۔میر صاحب نے جھٹ ایک خط نکال کر میرے سامنے رکھ دیا کہ لو پھر میرزا غلام احمد کا بھی خط آیا ہوا ہے جو کچھ ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہئے۔میں نے کہا اچھا پھر غلام احمد کولکھ دو۔چنانچہ تمہارے نانا جان نے اسی وقت قلم دوات لے کر خط لکھ دیا۔۱۵ نانی اماں کے بیان کے ساتھ حضرت نانا جان کے بیان کا بقیہ حصہ دے دینا بھی ضروری ہے۔آپ لکھتے ہیں : پہلے تو میں نے کچھ تامل کیا۔کیونکہ میرزا صاحب کی عمر کچھ زیادہ تھی اور بیوی بچہ موجود تھے اور