سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 175
کے تمام خاندانوں پر تھا۔175 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اسی اصل کے ماتحت سید بیگم صاحبہ نانی اماں بھی قرآن شریف اور اردو زبان کی تعلیم رکھتی تھیں۔چنانچہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت نانی اماں اردو زبان کی کتابیں اکثر مطالعہ میں رکھتی تھیں۔دہلی میں ایسی تعلیم بہت آسان تھی اس لئے پانچ چھ سال کا زمانہ کھیل کود کا نکال کر تھوڑا تھوڑا سبق رکھ کر ۹ ۱۰ سال کی عمر تک قرآن کریم کی تعلیم اور پھر دو تین سال میں اردو کی تعلیم مکمل ہو جاتی تھی اور میرا قیاس ہے کہ نانی اماں کی تعلیم بھی اسی نہج پر ہوئی ہوگئی۔نانی اماں اور حضرت میر صاحب کی طبیعت میں بہت فرق تھا۔میر صاحب کی طبیعت بہت تیز تھی اور پھر اس پر وہابیت کا رنگ تھا اگر نانی اماں کی طبیعت میں بھی تیزی ہوتی تو بڑی مشکل پڑ جاتی مگران کی طبیعت اس کے مقابل میں بالکل ٹھنڈی واقع ہوئی تھی۔حضرت میر صاحب نے ان کے اخلاص اور کیریکٹر کو اپنی سوانح میں ان الفاظ میں بیان فرمایا: اس با برکت بیوی نے جس سے میرا پالا پڑا تھا مجھے بہت ہی آرام دیا اور نہایت ہی وفاداری سے میرے ساتھ اوقات بسری کی اور ہمیشہ مجھے نیک صلاح دیتی رہی اور کبھی بے جا مجھ پر دباؤ نہیں ڈالا۔نہ مجھ کو میری طاقت سے بڑھ کر تکلیف دی۔میرے بچوں کو بہت ہی شفقت اور جانفشانی سے پالا نہ کبھی بچوں کو کوسا نہ مارا۔اللہ تعالیٰ اسے دین و دنیا میں سرخرو رکھے اور بعد انتقال جنت الفردوس عنایت فرما دے۔بہر حال محسر ویسر میں میرا ساتھ دیا جس کو میں نے مانا اس کو اس نے مانا۔جس کو میں نے پیر بنایا اس نے بھی اس سے بلا تامل بیعت کی۔چنانچہ عبداللہ صاحب غزنوی کی میرے ساتھ بیعت کی نیز میرزا صاحب کو جب میں نے تسلیم کیا تو اس نے بھی مان لیا۔ایسی بیویاں بھی دنیا میں کم میسر آتی ہیں یہ بھی میری ایک خوشی نصیبی ہے جس کا میں شکر گزار ہوں۔کئی لوگ بسبب دینی اور دینوی اختلاف کے بیویوں کے ہاتھ سے نالاں پائے جاتے ہیں۔جو گویا کہ دنیا میں دوزخ میں داخل ہو جاتے ہیں۔میں تو اپنی بیوی کے نیک سلوک سے دنیا میں ہی جنت میں ہوں۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ٥ ٢٩ یہ مختصر عبارت اپنے اندر بہت وسیع سیرت کا مضمون لئے ہوئے ہے۔ایک دفعہ آپ نے نظم میں