سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 176
176 بھی آپ کی سیرت پر بڑی روشنی ڈالی تھی جس کا عنوان تھا ” حرم محترم حرم محترم سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اے میرے دل کی راحت میں ہوں تیرا فدائی تکلیف میں نے ہرگز تجھ سے کبھی نہ پائی صورت سے تیری بڑھ کر سیرت میں دل ربائی میں ہوں شکستہ خاطر اور تو ہے مومیائی مجھکو نہ چین تجھ بن، بے میرے سکھ نہ تجھ کو میں تیرے غم کا دارو تو میری ہے دوائی شرمندہ ہوں میں تجھ سے مجھ سے نہیں نجل تو مجھ میں رہی کدورت تجھ میں رہی صفائی تو نے کرم کیا ہے میرے ستم کے بدلے دیکھی نہ میں نے تجھ سے اک ذرہ بے وفائی تو لعلِ بے بہا ہے انمول ہے تو موتی ہے نقش میرے دل پر بس تیری پارسائی میں نے نہ قدر تیری پہچانی ایک ذرہ ہیرے کو میں ہوں سمجھا افسوس ایک پائی خاطر سے تو نے میری کنبہ کو اپنے چھوڑا جنگل میں ساتھ میرے پیارے وطن سے آئی ناز کی پلی تو اور میں غریب گھر کا تو نے ہر اک مصیبت گھر میں میرے اٹھائی محنت کا تیری شمرہ اللہ تجھ کو بخشے چولھے میں سرکھپایا بچوں پہ جاں کھپائی دُکھ سکھ میں ساتھ میرا تو نے کبھی نہ چھوڑا خود ہو گئی مقابل جب غم کی فوج آئی دنیا کے رنج و غم کو ہنس ہنس کے تو نے کاٹا اللہ رے تیری ہمت بل بے تیری سمائی بچوں کو تو سلاتی اور آپ جاگتی تھی سو بار موت گو میں تو رات کو نہائی بچوں کے پالنے میں لاکھوں اٹھائے صدمے جب تک یہ سلسلہ تھا راحت نہ تو نے پائی ہوتا تھا ایک پیدا اور دوسرا گزرتا تھی صابرہ تو ایسی ہرگز نہ بلبلائی صدمہ کو اپنے دل کے لاتی نہ تو زباں پر جہاں کی طرح سے دیتی ہرگز نہ تو دہائی تنگی میں عمر کاٹی بچوں کو خوب پالا شکوہ نہ سختیوں کا لب پر کبھی تو لائی دکھ درد اپنے دل کا تو نے کیا نہ افشا غیروں سے تو چھپاتی ہوتی اگر لڑائی جو میں نے تجھ کو بخشا تو نے لیا خوشی سے مانگی نہ تو نے مجھ مانگی نہ تو نے مجھ سے ساری کبھی کمائی دھوکہ دیا نہ ہرگز بولی نہ جھوٹ گا ہے مجھ سے نہ بات کوئی تو نے کبھی چھپائی