سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 174 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 174

174 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھی۔اس لئے ان کا سنِ پیدائش بھی ۱۸۳۸ ء یا ۱۸۳۹ء کے قریب ہی بنتا ہے اور شادی کاسن اور شادی کا سال ۱۸۶۱ء کے آخیر یا ۱۸۶۲ء کا شروع بنتا ہے۔حضرت میر صاحب اور نانی اماں کی شادی سے قبل حضرت میر صاحب کے والد فوت ہو چکے تھے اور وہ یتیم رہ گئے تھے مگر ایک واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب کی نسبت اس جگہ ان کے والد صاحب کی زندگی ہی میں ہو چکی تھی یہ واقعہ مجھے جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب سرسادی مہاجر نے سنایا کہ جب حضرت میر صاحب کے بڑے بھائی سید ناصروز یر صاحب کی شادی لو ہاردو والوں کے ہوئی اس وقت ان کی عمر چھوٹی ہی تھی (میرا خیال ہے کہ اس وقت ۸ یا ۹ سال کی عمر ہوگی۔محمود عرفانی ) برات لوہارو میں گئی۔حضرت میر صاحب کے والد صاحب بھی ساتھ تھے۔رات کو لوہارو والوں کی طرف سے ( کیونکہ وہ نواب لوگ تھے ) کنچنی کے ناچ کا انتظام تھا۔سب لوگ اس ناچ کو دیکھنے میں مشغول تھے۔مگر حضرت میر صاحب نے بیان فرمایا کہ مجھے اس قدر شرم آئی کہ میں نے ایک دفعہ بھی نظر اُٹھا کر نہ دیکھا۔میرا سر جھکا رہا۔میر صاحب کے بچپن کا زمانہ اور اس خوردسالی کے زمانہ میں ان کی حیا اور نیکی دیکھ کر سید عبد الکریم صاحب کے دل میں بڑا خیال پیدا ہوا۔انہوں نے اسی وقت حضرت میر صاحب کے والد صاحب کو کہہ دیا کہ یہ لڑکا میرا ہوا۔اس سے سید عبدالکریم صاحب کی نیکی اور دور بین نگاہ کا بھی پتہ چلتا ہے اور پھر میر ہاشم علی صاحب کی وفات کے بعد جبکہ گھر میں سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہ رہا تھا۔ان کا ایک یتیم بے یار و مدد گارلڑکے کو جس کا کوئی مستقبل نہ تھا۔اپنی لڑکی دے دینا یہ ان کا اور بھی کمال تھا۔نانی اماں کی تعلیم میرے پاس وہ حالات نہیں ہیں کہ جن سے میں نانی اماں کی ابتدائی زندگی پر کچھ روشنی ڈال سکوں۔مگر اس سلسلہ میں میری مدد قرائین بھی کر سکتے ہیں۔اول تو خاندان میر درد اور ان کے ساتھ ملے ہوئے ایسے خاندان جن کی قرابت داریاں اس خاندان سے تھیں اس کا عام رواج یہ تھا کہ لڑکیوں کو قرآن کریم اور معمولی دینیات کی کتابیں پڑھاتے تھے اور بعض تو ان میں سے عربی اور فارسی اور اردو میں پوری دستگاہ رکھتی تھیں۔مغلیہ سلطنت کا زمانہ اور پھر قرب تھا اور شاہی گھروں میں تعلیم عام تھی۔شہزادیاں فارسی، اردو میں مہارت تامہ رکھتی تھیں۔شعر و شاعری کے مشغلے تھے۔اس کا اثر شرفاء