سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 150 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 150

150 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں ہوا۔گول کمرے کے سامنے کا صحن کھلا پڑا تھا۔حضرت میر صاحب نے کچھ پرانی اینٹیں جو زمین میں مدفون تھیں کھدوا کر نکلوائیں اور گول کمرے کے سامنے دیوار بنوا دی۔حضرت میر صاحب جب زمین سے یہ مدفون اینٹیں نکلوار ہے تھے۔اُس وقت بعض کو تاہ اندیشوں نے کہا کہ میر صاحب لغو کام کر رہے ہیں۔مگر بعد میں دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ لغو کام کس قدر مفید اور بابرکت ثابت ہوا۔حضرت عرفانی کبیر نے حیات ناصر کے صفحہ ۳۰ پر لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں وہی تعمیرات سلسلہ کے ناظم تھے اور اس کام کو انہوں نے نہایت دیانت اور درد اور اخلاص سے سرانجام دیا۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں بھی کبھی عار نہ ہوتا تھا اور نہ پیدل سفر کرنے سے پر ہیز ، نہایت کفایت شعاری سے وہ سلسلہ کے اموال کو جو اُن کے ہاتھ میں ہوتے خرچ کرتے تھے۔ایک دنیا دار کی نظر میں اسے بے حیثیت کہا جائے مگر سچ یہ ہے کہ وہ ان اموال کے امین تھے۔حضرت نانا جان نے جس دیانت اور امانت کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو ادا کیا وہ ہمیشہ آنے والی نسلیں عزت سے یاد کریں گی۔انہوں نے کبھی اپنے آرام کی پرواہ نہ کی۔کڑکتی دھوپ میں نگرانی کر رہے ہیں۔پسینہ سر سے لے کر پاؤں تک جا رہا ہے۔برستی بارش میں اگر کوئی خطرہ ہوا ہے تو کھڑے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ان کی یہ ہمت اور یہ فرض شناسی اور اموال سلسلہ کی دیانت سے خرچ کرنے کی مثال ہمارے لئے سبق ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ یہ تمام کام وہ آنریری طور پر کرتے تھے۔کوئی معاوضہ ان کاموں کا دنیا کے کسی سکہ کی شکل میں نہ لیا اور نہ خواہش کی۔حضرت میر صاحب کی شاعری حضرت میر صاحب شاعر بھی تھے۔اُن کے اشعار بہت آسان اور سلیس زبان میں ہوتے تھے۔ایسا معلوم ہوتا کہ گوندھی ہوئی مٹی ان کے سامنے پڑی ہے اور وہ اس سے حسب منشاء جو چاہتے ہیں بناتے جاتے ہیں۔سلسلہ کی تائید میں حمد الہی ، نعت نبی اور اپنے سفر نامے اور بعض تحریکیں انہوں نے شعر میں لکھے۔یہ بجائے خود ایک طویل مضمون ہے۔وہ اپنی شاعری میں خیالی باتوں کی طرف نہ جاتے تھے۔دشمنانِ سلسلہ کے خلاف منہ توڑ اشعار بھی لکھا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دشمن کے متعلق لکھا: