سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 151 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 151

151 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اک سنگ دیوانہ لدھیانہ میں ہے آج کل وہ خر شتر خانہ میں ہے الغرض اس طرح اُن کے دن اور رات خدمت سلسلہ میں لگے ہوئے تھے اور وہ بے غرض خدمت میں منہمک تھے کہ ان کی دنیا میں ایک نئی تبدیلی ہوئی اور ۱۹۰۸ء کا زمانہ آ گیا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔انا لله و انا اليه راجعون اور حضرت میر صاحب کے کاموں کی نوعیت بدل گئی۔حضرت میر صاحب نے خود لکھا ہے کہ : ”اب میرے متعلق کوئی کام نہ رہا کیونکہ وہ کام لینے والا ہی نہ رہا۔دنیا سے اُٹھ گیا۔میر صاحب، میر صاحب کی صدائیں اب مدھم پڑگئیں بلکہ کئی اور میر صاحب پیدا ہو گئے۔شکر ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا غرور مجھ سے دور ہوا اور نا ز جاتا رہا کیونکہ کوئی ناز بردار نہ رہا۔حضرت صاحب کی جدائی کے غم اور آپ کے سلسلہ کے کاموں سے سبکدوشی نے مجھے پریشان کر دیا۔۲۰ مسجد مبارک کی توسیع اگر چہ مجھے اس امر کا ذکر پہلے کرنا چاہئے تھا مگر میں بھول گیا اور اس امر کا ذکر رہ گیا کہ مسجد مبارک کی توسیع جو ۶ ۱۹۰ء سے ۱۹۰۷ ء تک جاری رہی۔اُن معترضین کو جو میر صاحب کی مسابقت فی الدین کو بُری نگاہ سے دیکھتے تھے یہ چیز بھی تکلیف دے رہی تھی۔مگر بے بس تھے۔بعض کھڑکیوں وغیرہ کے متعلق جھگڑا ہوا۔حضرت تک معاملہ گیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ میر صاحب نے ” جہاں کھڑکیاں دروازے رکھ دیئے ہیں وہیں رہنے دیئے جائیں“۔اس سے اُس مقام کا پتہ چل سکتا ہے جو حضرت کے دل میں حضرت میر صاحب کا تھا۔بھرتیوں کے معاملہ میں فرمایا: میر صاحب کے کاموں میں دخل نہیں دینا چاہئے“۔یہ سگِ دیوانہ اودھانہ کے ایک محلہ شتر خانہ میں رہتا تھا۔(عرفانی کبیر )