سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 149 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 149

149 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ڈھابوں کی بھرتی کا کام مدرسہ احمدیہ جس جگہ واقع ہے۔یہ سب جگہ پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور یہاں بہت بڑی ڈھاب تھی۔حضرت میر صاحب کی دور رس نگاہ نے اس جگہ کی قدر کو جانا اور سلسلہ کی ترقی اور ضرورت کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا۔انہوں نے سلسلہ کی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر اس ڈھاب میں جہاں ہاتھی غرق ہوتا تھا مٹی ڈلوانے کا انتظام کیا۔چنانچہ بھرتی پڑنے لگ گئی۔بھرتی پڑ رہی تھی کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور اُن کے رفقاء لا ہور سے آئے انہوں نے ان بھرتیوں کو دیکھ کر کہنا شروع کیا کہ : میر صاحب سلسلہ کا روپیہ غرق کر رہے ہیں۔یہ اعتراض بھی اسی پہلے اعتراض کی ہی کڑی تھا۔ورنہ میر صاحب کا مقام تو ان تمام اعتراضوں سے بہت بالا تھا۔میر صاحب نے جب سنا تو فرمایا: میں غرق کرتا ہوں تو تم سے لے کر نہیں۔حضرت صاحب کا روپیہ ہے تم کون ہو جو مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔جاؤ حضرت صاحب کو کہو۔19 بالآ خر حضرت اقدس سے اس امر کا ذکر کیا گیا۔حضور نے فرمایا: کہ میر صاحب کے کاموں میں دخل نہیں دینا چاہئے۔بعد کے واقعات نے بتلایا کہ اگر حضرت میر صاحب نے ان زمینوں کو پانی سے نکال کر سلسلہ کے لئے ایک قیمتی جائیداد نہ بنا لیا ہوتا تو مرکز سلسلہ میں بہت مشکلات کا اضافہ ہو جاتا۔آج وہ زمین سلسلہ کے مرکزی کاموں کے لئے کام آئی اور آج علوم عربیہ اور دینیہ کے پھیلانے کیلئے ایک ایسا مرکز بنی ہوئی ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں سے علم اور معرفت کی نہریں بہہ رہی ہیں۔جب تک دنیا ر ہے گی اور جب تک دنیا کو اس زمین سے فیض پہنچتا رہے گا۔اُس وقت تک خدا کے نیک بندے حضرت میر صاحب کی اس خدمت کو یاد کر کے ان کے لئے دعا کرتے رہیں گے اور ان معترضین کے اس قول کو نفرت سے دیکھتے رہیں گے کہ میر صاحب قوم کا روپیہ غرق کر رہے ہیں۔سلسلہ کی عمارات جہاں تک میر اعلم ہے۔مہمانخانہ، مدرسہ وغیرہ کی عمارتوں کا کام بھی حضرت میر صاحب کی نگرانی