سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 148 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 148

148 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا۔۱۸ اس اعتراض کو پڑھیئے اور پھر خط کشیدہ عبارت کو غور سے ملاحظہ فرمائیے اور پھر سوچئے کہ جس دماغ کے یہ خیالات ہوں کیا اس کے قلب میں اپنے مرشد پر کوئی ایمان معلوم ہوتا ہے؟ ا۔خاندان مسیح موعود کی زندگی پر تعیش کا اعتراض۔صحابہ کی زندگی سے بالکل مختلف زندگی بسر کرنے کا نقشہ پیش کرنے والے۔قومی رو پیر کو کھا جانے والے۔۴۔قومی روپیہ سے زیوارت اور کپڑے بنانے والے۔یہ کن کو قرار دیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اُن کی مقدس بیوی کو کسی مذہب کے آدمی سے دریافت کرو۔وہ جس شخص کو اپنا ہادی اور راہنما تسلیم کرتا ہوگا۔اس کے کسی فعل پر اعتراض نہیں کرے گا اور اگر کوئی شخص اس کے فعل پر اعتراض کرتا ہوگا تو وہ اس کو یقینا مسلوب الایمان سمجھے گا۔اس امر کی حقیقت سے تو میں حضرت اُم المؤمنین کی سیرت کے باب میں پردہ اُٹھاؤں گا۔مگر یہاں صرف اس قدر کہنا کافی ہوگا کہ یہ دوسرا قدم تھا جو حضرت میر صاحب کے بعد ان گم گشتہ طریق لوگوں نے اُٹھایا اور اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میر صاحب پر اعتراض ہی اُن کو اس نتیجہ کی طرف لے گیا کہ وہ سلسلہ سے کٹ گئے۔عبرت ! عبرت ! عبرت !!! مدرسہ تعلیم الاسلام کے پہلے ناظم سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضرورت دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدرسہ تعلیم الاسلام کی بنیاد رکھنے کا ۱۸۹۷ء میں فیصلہ فرمایا اور ۱۸۹۸ء میں اس مدرسہ کا آغاز فرمایا۔مدرسہ تعلیم الاسلام کی تعمیر کیلئے جو لوگ بنیادی پتھر قرار دیئے گئے ان میں سے حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیر کوٹلہ تھے جو مدرسہ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ تھے جو مدرسہ کے ناظم مقرر ہوئے اور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی پہلے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔بنیادی تعمیر میں حصہ لینے والے لوگوں کو کس قدر محنت کرنی پڑتی ہے وہ ایک واضح امر ہے۔