سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 147 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 147

147 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ' پھر آپ لوگ اس کو روکتے نہیں۔تو خواجہ صاحب نے ماتھا پیٹ کر کہا کہ اگر ہم کہیں تو پھر کچھ بھی کام نہیں کر سکتے اور اگر کہہ سکتے تو بات ہی کیا تھی۔یہ تو آپ جیسے بزرگوں کا کام ہے اور اسی وجہ سے آپ سے ذکر کیا ہے۔تب اُس نے وعدہ کیا کہ اچھا، پھر میں اس کا ذکر کروں گا “۔۱۷ اس بالائی عبارت کا مفہوم بھی بالکل واضح ہے کہ اس طریق پر لوگوں کو تیار کیا جاتا تھا کہ وہ حضرت میر صاحب کے خلاف آواز اٹھائیں۔گویا حاسد لوگوں نے سلسلہ کے اموال کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے حضرت میر صاحب کو زینہ بنایا اور یہ طریق عام انسانی اخلاق کی حد سے بھی گرا ہوا تھا۔چہ جائیکہ اس کا کوئی تعلق تقوی کی کسی راہ سے ہو۔چنانچہ انسانی فطرت اپنی عادت کے مطابق کام کرتی ہے اور جب ایک قدم اُٹھ جاتا ہے تو پھر دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اُٹھتا چلا جاتا ہے اور انسان یہ نہیں معلوم کر سکتا کہ وہ ہلاکت کے گڑھے کی طرف جا رہا ہے۔بالکل اسی طرح معترض لیڈر کا دوسرا قدم اُٹھا اور یہ قدم حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف براہِ راست تھا۔۱۹۰۶ء میں مسجد مبارک کی توسیع ہو رہی تھی اس غرض کے لئے ایک وفد تین اصحاب پر مشتمل گجرات اور کڑیانوالہ کی طرف بغرض حصول چندہ جا رہا تھا تو وفد کے لیڈر نے ایک لمبا سوال شروع کیا۔جو ۳۶ میل کے سفر میں طے ہوا اس سوال کا خلاصہ یہ تھا۔پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دے دیا کرتے تھے۔اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آکر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو۔ہم نے تو قادیان میں جا کر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو دیکھ لیا ہے۔جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں۔حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جور و پیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔