سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 146 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 146

146 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کام کرنے والے مالی کو اس کی درخواست پر اگر روٹی لنگر سے مل گئی تو یہ ایسی چیز نہ تھی کہ جو حضرت میر صاحب کیلئے باعث اعتراض بن سکتی۔حضرت میر صاحب کا اگر الگ کوئی کاروبار ہوتا۔اُن کا ذاتی کوئی باغ ہوتا تو جو مقام اُن کو صبری ابوت کا حاصل تھا اس لحاظ سے بھی میرے نز دیک اُن کا اپنے نوکروں کیلئے روٹی لے لینا بھی ناجائز نہیں ہوسکتا تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نوکر کو یا ان کے کسی کتے کولنگر سے روٹی لے کر ڈال دینے پر اعتراض کرنا تو محض شقاوت قلبی ہے اور یہ ایسی ہی بات تھی جیسے مدینہ کے چند نو جوانوں نے فتح مکہ کے بعد یہ اعتراض کر دیا کہ: خون تو ہماری تلواروں سے ٹپکتا ہے اور مال غنیمت مکے والے لے گئے۔ان اعتراض کرنے والوں کے اعتراض میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل و انصاف پر ایک اعتراض پوشیدہ تھا۔اگر چہ مدینہ کے مخلص صحابہ نے اس کی ہر طرح تردید کی اور معذرت کی۔مگر دنیا میں اس کا اجر لینے سے محروم ہو گئے۔پس یہ اعتراض بظاہر ایک معمولی بات تھی مگر اس اعتراض کا وار دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تھا اور یہ اعتراض پہلا کیڑا تھا جو ان کے قلب کے اندر گھن کے کیڑے کی طرح داخل ہوا اور جس نے اندر ہی اندر اُن کے سارے قلب کی حالت کو بدل دیا اور کھالیا۔لنگر کا انتظام ابتداء میں ایسا تھا کہ حضرت اقدس یہ چاہتے تھے کہ ہر احمدی لنگر خانہ سے ہی کھائے۔چنانچہ سلسلہ کے سب عمائدین حضرت خلیفہ مسیح الاوّل، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حضرت مولوی محمد احسن صاحب، حضرت مولوی فضل دین صاحب وغیرہ وغیرہ ابتداء میں سب کے ہاں لنگر سے ہی کھانا جاتا تھا۔ایسی حالت میں لنگر کی وسعت کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔جب کہ سینکڑوں آدمی لنگر سے کھانا کھا رہے تھے۔حضرت کے باغ کے مالی کی روٹی کو اعتراض کا ذریعہ بنالینا ان کی اندرونی اور نفسی حالت کا آئینہ دار ہو سکتا ہے۔الغرض اس طرح حضرت میر صاحب بعض لوگوں کی نگاہ میں بلا وجہ کھٹکے اور ان کو حضرت اقدس پر اعتراض کرنے کا پہلا زینہ بنایا گیا۔دوسرا قدم حضرت میر صاحب پر یہ اعتراض سن کر سننے والے نے کہا :