سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 145
145 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سے جلا کرتے تھے کہ سلسلہ کے اموال کا خرچ ہمارے ہاتھ میں کیوں نہیں دے دیا جا تا ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ابتداء میں جرات نہ ہوتی تھی اس لئے عمر کا نشا نہ پہلے حضرت میر صاحب کو بنایا گیا اور ان لوگوں کے ایک لیڈر نے جو بعد میں کھل نکلے۔یہ اعتراض کیا: 66 " کہ میر صاحب مالیوں کو یوں روٹیاں دیتے ہیں اور باغ کے کتے کو یوں گوشت دیا جاتا ہے۔14 یہ اعتراض بہت بڑے فتنے کا پیش خیمہ تھا۔اس کی تہہ میں مالی اعتراض چھپا ہوا تھا۔گویا کہ وہ رقوم جو چندے کے طور پر آتی ہیں وہ ناجائز طور پر صرف کی جاتی ہیں ( العیاذ باللہ ) ورنہ لنگر خانہ تو نہ صرف مہمانوں کے لئے ہی تھا بلکہ اس سے بہت سے غریب لوگ بھی پرورش پاتے تھے اور حضرت اقدس پسند کرتے تھے کہ لنگر پر آنے والے سائلوں کو بھی رد نہ کیا جائے۔چنانچہ میں نے جناب شیخ محمد اسماعیل صاحب سرسا وی سے بار ہاسنا کہ وہ ایک زمانہ میں مہمانوں کے کھانا کھلانے پر مامور تھے۔اس زمانہ میں مارواڑ میں سخت قحط پڑا۔بہت سے لوگ یہاں بھی آگئے اور وہ مانگنے کے لئے لنگر پر آ جایا کرتے تھے۔شیخ صاحب ان کو کچھ نہ کچھ دے دیا کرتے تھے۔اس امر کی کسی نے شکایت کر دی تو حضرت صاحب سن کر خاموش ہورہے۔مگر شیخ صاحب کو جب شکایت کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت سے عرض کیا کہ حضور ! اس کام پر کسی اور کو مقرر کر دیا جائے۔حضرت نے فرمایا کیوں میاں اسماعیل ! تھک گئے ! انہوں نے کہا۔نہیں حضرت۔اس طرح لوگ آتے ہیں تو میں پسند نہیں کرتا کہ حضور کے لنگر سے کوئی محروم جائے۔اس لئے کسی کو چوتھا حصہ کسی کو نصف کسی کو پوری روٹی دے دیا کرتا ہوں اور اس کی پھر شکایت ہوتی ہے۔حضور نے فرمایا: ہماری طرف سے اجازت ہے کہ فی کس ایک روٹی دے دیا کرو اور فرمایا کہ میاں ! یہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے کسی کو خالی نہ جانے دیا کرو“۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لنگر کی عطاء بہت وسیع تھی اور میں نے خود ایام جلسہ میں کام کر کے دیکھا ہے کہ مزدور اور محنت کرنے والے لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کو خواہ مزدوری کم دی جائے مگران کو کھا نا دیا جائے۔ابتدائی ایام میں جب کہ قادیان کے لوگ غربت کی زندگی بسر کرتے تھے۔اُن کے لئے لنگر سے روٹی مل جانی ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ میں