سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 543
543 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ امیر اور ملجا و ماوی سمجھتے ہیں اور ان کی پاکیزگی روح اور بلندی فطرت اور علو استعداد اور روشن جو ہری اور سعادت جبلی کو مانتے ہیں اور دل سے ان سے محبت کرتے ہیں۔واللـه عـلـى مانقول شهيد صرف اعتقاد میں فرق ہونے کی وجہ سے ہم ان سے بیعت نہیں کر سکتے۔‘‘ 4 حضرت نوح اور حضرت مسیح موعود کی اولاد غیر مبایعین کی طرف سے سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق طنزاً کہا جاتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ حضرت نوح علیہ السلام کے اس بیٹے کی مانند ہیں جس نے اپنے باپ کی نافرمانی کی تھی۔چونکہ یہ الزام منکرین خلافت کی طرف سے عام طور پر لگایا جاتا رہا ہے۔اس لئے میں اس کے متعلق کچھ عرض کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نام خدا تعالیٰ نے نوح بھی رکھا ہے۔مگر اس لئے کہ دونوں میں بہت سی باتوں میں مشابہت پائی جاتی ہے۔چنانچہ ذیل میں صرف ان مشابہتوں کا ذکر کروں گا جو دونوں کے درمیان بلحاظ ان کی اولاد کے پائی جاتی ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام آدم ثانی تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بھی آدم رکھا۔حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے خاندان کی عادت کے برخلاف خدا کے حکم کے ماتحت بڑی عمر میں شادی کی تھی۔شادی کے وقت یہودی روایات کے لحاظ سے آپ کی عمر پانچ سو سال کے قریب تھی۔حضرت مسیح موعود نے جب الہی ارشاد کے ماتحت شادی کی۔اس وقت آپ کی عمر پچاس سال کے قریب تھی۔حضرت نوح علیہ السلام کی شادی میں تاخیر کی دو وجہ لکھی ہیں۔ایک یہ کہ انہیں علم دیا گیا تھا کہ طوفان آنے والا ہے اس لئے انہوں نے کہا کہ اگر میں شادی کروں تو جو اولاد ہو گی وہ بھی ہلاک ہو جائے گی۔اس لئے کیا فائدہ لیکن بعد میں خدا نے شادی کا حکم دیا۔دوسری وجہ یہ کھی ہے کہ درحقیقت خدا نے ان کی حالت ایسی کر دی تھی کہ ان میں گویا مردمی کی قوت ہی نہ تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب شادی کی تو آپ کی یہ قوت بھی جیسا کہ حضور تحریر فرماتے ہیں کا لعدم تھی۔مگر جب آپ نے یہ مضمون مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب کا ہے جو عرفانی کبیر نے اس کتاب میں شامل کیا ہے۔