سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 544 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 544

544 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دعا کی تو الہام کے ذریعہ آپ کو ایک دوائی بتائی گئی۔جس سے وہ حالت رفع ہوگئی اور کامل صحت و طاقت حاصل ہوئی۔ہے طالمود میں لکھا ہے کہ نوح علیہ السلام چونکہ اپنے زمانہ میں نیک اور صالح تھے اور خدا نے چاہا کہ حضرت نوح کی اولا د تمام زمین پر پھیلے۔اس لئے خدا نے حضرت نوح علیہ السلام سے کہا کہ تم ایک شادی کرو تا اس سے اولا د ہو۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو ان نوروں کی جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے۔دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے۔نیز فرماتے ہیں: ”خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے کہ ایک شریف خاندان میں وہ میری شادی کرے گا اور وہ قوم کے سید ہوں گے اور اس بیوی کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولا دہوگی۔“ 9 تب حضرت نوح علیہ السلام نے خدا کے حکم کے ماتحت اخنوخ (Enonch) کی لڑکی سے شادی کی جس کا نام نعمت تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شادی خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق دہلی میں سادات کے ایک مشہور خاندان میں ہوئی یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم و مغفور کی دختر نیک اختر سے جسے خدا تعالیٰ نے الہام اشکر نعمتی رئیت خدیجتی میں قرار دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ حضرت نوح کی بیوی کا صحیح نام نعمت ہی تھا۔نعمت سے حضرت نوح علیہ السلام کے تین لڑکے ہوئے جن سے اولاد چلی ، یافث ، حام، سام اور متینوں بڑے ہوئے اور حضرت نوح علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق نیکو کار اور اللہ تعالیٰ کے راستہ پر قائم ہوئے۔ا تو رات اور دوسری کتب یہود کی روایات کے مطابق پہلے سام پھر حاتم پھر یافت پیدا ہوئے۔اسی