سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 542 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 542

542 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مولوی محمد علی صاحب کا اعتراف جناب مولوی محمد علی صاحب نے ۱۹۰۶ء میں رسالہ تفخیذ الاذہان پر ریویو کرتے ہوئے ایک مضمون کا کچھ حصہ نقل کرنے کے بعد لکھا کہ : ”اس وقت صاحبزادہ (حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کیا ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ اگر وہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی کا خیال ان کے دلوں میں ہو گا۔مگر دین کی یہ ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ایک خارق عادت بات ہے۔۔۔اب وہ سیاہ دل لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو مفتری کہتے ہیں۔اس بات کا جواب دیں کہ اگر یہ افترا ہے تو یہ سچا جوش اس بچہ کے دل میں کہاں سے آیا۔جھوٹ تو ایک گند ہے۔پس اس کا اثر تو چاہئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور نورانی جس کی کوئی نظیر ہی نہیں ملتی۔“ ہے مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں : 1911ء میں جو وصیت آپ (حضرت خلیفہ اول) نے لکھوائی تھی اور جو بند کر کے ایک خاص معتبر کے سپرد کی تھی۔اس کے متعلق مجھے معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں آپ نے اپنے بعد خلیفہ ہونے کے لئے میاں صاحب کا نام لکھا تھا۔“ جناب پیر منظور محمد صاحب نے حضرت خلیفہ اول سے عرض کیا کہ ” مجھے آج حضرت اقدس کے اشتہارات کو پڑھ کر پتہ مل گیا ہے کہ پسر موعود میاں صاحب ہی ہیں۔تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کسی خاص طرز سے ملا کرتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں۔۵ منکرین خلافت کا اعتراف عمومی ۲۹ مارچ ۱۹۱۴ء کے پیغام صلح کے مقالہ افتتاحیہ میں تحریر کیا گیا۔پیارے ناظرین! ہم آپ کو یقین کی دلاتے ہیں کہ ہم صاحبزادہ صاحب کو اپنا ایک بزرگ اور