سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 441
441 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ چنانچہ میرا چھوٹا بھائی جو اس وقت سب سے چھوٹا تھا جس کا نام عبد اللہ ناصر تھا ڈھاب میں ڈوب گیا۔حضرت والد صاحب قبلہ اس وقت حیدر آباد میں تھے۔اس موقعہ پر حضرت ام المؤمنین باوجود سخت سردی اور بارش کے ہمارے گھر پر موجود تھیں۔میرا دل اس وقت بھی اس واقعہ کی یاد سے دردمند ہے میرے چھوٹے بھائی یوسف علی عرفانی نے اس واقعہ کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کیا وہ میں بلا کم و کاست اس کی زبان میں درج کر دتیا ہوں اس نے اور واقعات بھی لکھے ہیں۔اس واقعے کو وہ تیسرا نمبر قرار دیتا ہے۔وهو هذا۔تیسرا واقعہ سیدۃ النساء حضرت اُم المؤمنین کے اخلاق کا وہ اہم ترین واقعہ ہے جو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا اور اس واقعہ سے حضرت اماں جان طال عمر ہاو دام اقبالہا کے شفیق قلب کا پتہ چلتا ہے کہ آپ اس طرح اپنے خدام کی خوشیوں کو اپنی خوشیاں اور ان کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھ کر ان میں حصہ لیتی رہیں اور لیتی ہیں۔۱۹۲۱ء کا واقعہ ہے ان دنوں قادیان کی توسیع اور طویل ڈھاب میں مٹی ڈال ڈال کر بھرتیاں ڈالی جارہی تھیں۔ہمارے مکان کے سامنے جہاں سے مٹی کھودی جاتی تھی۔بہت ہی گہرا گڑھا ہو گیا تھا جس کو برسات کے پانی نے بھر کر ایک خوفناک گہرا تالاب بنادیا تھا! کئی دنوں سے آسمان ابر آلود تھا۔موسم سرما کے ایام تھے اس پر ٹھنڈی ہوائیں اور بارش سب نے مل ملا کر سردی کو اور بھی شدید بنا د یا ایک روز شدید سردی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکول میں جلدی چھٹی کر دی گئی تا کہ لڑکے اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔میرا چھوٹا بھائی عبداللہ ناصر سکول سے گھر آیا تو کتا بیں رکھ کر رفع حاجت کے لئے بیت الخلا کو جانے لگا۔اس وقت بیت الخلاء نیا بنا تھا اس کو بڑھئی دروازہ لگا رہا تھا۔چنانچہ مرحوم باہر رفع حاجت کے لئے چلا گیا۔فارغ ہو کر ڈھاب پر طہارت کی غرض سے گیا جہاں اس کا پاؤں پھسلا اور وہ پانی کی گہرائیوں میں پنہاں ہو گیا اسی اثناء میں میں نے کچھ شور سنا اور میں بھاگ کر ڈھاب کی طرف گیا تو دوسری طرف سے ایک دہوبی چلا رہا تھا کہ لڑ کا ڈوب گیا میں نے اس وقت گھر والوں کو اطلاع دی اور میرے شور مچانے پر تمام محلے والے ڈہاب پر جمع ہو گئے۔مگر ہمیں اب تک یہ معلوم نہ ہوا کہ ہمارا کون سا بچہ ڈوب گیا ہے۔پہلے خیال ہوا کہ برادرم ابراہیم علی عرفانی کا بیٹا سلیمان ہے جو کہ اس وقت بچہ ہی تھا مگر تلاش کرنے پر اس کو مولوی رحمت علی صاحب مبلغ جاوا کے گھر موجود پایا اب معلوم ہوا کہ یقیناً عبداللہ ناصر ہے۔پھر کیا تھا تمام قادیان میں یہ خبر آن واحد میں پہنچ گئی اور ہمارے گھر کے سامنے