سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 442 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 442

442 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سینکڑوں آدمیوں کا جم غفیر جمع ہو گیا خاندانِ نبوت کے اکثر افراد موجود تھے۔زنانہ میں خاندان نبوت کی سیدات حضرت اماں جان کی معیت میں موجود تھیں مگر اس واقع کو جو ان قیامت کی گھڑیوں میں میرے مشاہدے میں آیا ہے۔مجھے جب یاد آتا ہے تو مجھ پر رفت بھی طاری ہو جاتی ہے اور ندامت بھی اور وہ یہ کہ حضرت اماں جان ٹھیک اسی بے قرار اور دکھ سے بیتاب تھیں جس سے ایک شفیق ماں کے دل کی گہرائیاں متزلزل ہو جاتی ہیں آپ کبھی زنانے میں والدہ، بھاوج اور ہمشیرگان کو تسلی دیتیں اور پھر بیتابی سے ڈھاب کی طرف تشریف لاتیں تا کہ دریافت کریں کہ بچہ برآمد ہوا ہے یا نہیں۔مگر جب مرحوم کی لاش پانی سے باہر نکالی گئی۔ارشاد مبارک کے ماتحت حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور دوسرے ڈاکٹر موجود تھے جن کو سیدی و مولائی کی طرف سے یہ حکم تھا کہ انتہائی کوشش اور انتہائی مایوسی کے باوجود بھی کوشش جاری رکھیو۔ڈاکٹر صاحبان اپنی کوششوں میں مصروف تھے۔میری حالت اپنی جگہ پر ایک دیوانے کی سی تھی اور اسی دیوانگی میں گھر میں گرم پانی یا آگ لینے کے لئے آتا جا تا تھا مگر میں نے دیکھا کہ حضرت اماں جان باہر تشریف فرما تھیں۔میں جس وقت وہاں دوڑتا ہوا جاؤں آپ دریافت فرماتیں کہ کیا خبر ہے مگر نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا۔میں نے حضرت اماں جان کو ہر بار دریافت کرنے پر کوئی بھی جواب نہ دیا آخری بار مجھے یاد ہے کہ میں نے اتنا کہا کہ حضور دعا فرماویں وہ وقت وہ گھڑیاں گزر گئیں۔عرصہ گزر گیا مگر آج وہ واقعہ میری آنکھوں کے سامنے اسی طرح پیش نظر ہے اور آج اس واقعہ کی اہمیت میری نگاہوں میں کس قدر بلند اور ارفع ہے۔میں نے اس وقت جو کچھ دیکھا تھا آج اس کی اہمیت کو محسوس کیا اس واقعہ سے حضرت اُم المؤمنین کی اس شفیق اور مادرانہ محبت کا اندازہ ہوتا ہے جو ان کے قلب مبارک میں اپنے خدام کے لئے موجزن ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اصل ہمدردی اور شفقت یہی ہے جس میں کوئی دنیوی غرض مخفی نہیں بلکہ محض خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہے اور یہ ہمدردی کا وہ انتہائی رنگ ہے جو ایتاء ذی القربی میں تعلیم کیا گیا ہے کہ وہ ایک فطرتی اور اضطراری رنگ ہو جائے۔اللہ ہماری ما در مہربان کو تا دیر سلامت رکھے۔آمین ایک پاکیزہ عادت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عملی زندگی کا آپ پر اس قدر گہرا اثر اور رنگ چڑھا تھا کہ