سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 353 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 353

353 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خدا تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہوتی ہے اور اس طرح چھوٹے بھائی کی تربیت دینی کے فرض کو ادا کیا ہے۔کتنی بہنیں ہیں جو ایسے مواقع پر اپنے بھائیوں کی اصلاح کا خیال رکھتی ہیں اور پھر اس پر حکمت طریق پر اصلاح کرتی ہوں۔آپ نے یہ تو نہیں کیا کہ بھائی کو حکم دے دیا کہ نہیں تم کو یہ رشتہ منظور کرنا ہو گا۔میرا یقین ہے کہ اگر حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کو ایسا حکم دیا جا تا تو خواہ وہ ان کی اپنی طبیعت کے خلاف ہوتا مگر وہ اس حکم کی تعمیل اپنی سعادت مندی قرار دیتے۔مگر شادی بیاہ کے معاملہ میں ایک گونہ آزادی رائے ہونی چاہئے حضرت اُم المؤمنین نے اسے مدنظر رکھا۔ہاں صحیح مشورہ دیا اور ان کے خیالات میں اصلاح کی سعی کی اور اس کے لئے عقلی دلائل پر حصر نہیں کیا بلکہ ایک ایسی بات کہی جو ایک دیندار اور صادق الیقین مسلمان پر مؤثر ہو سکتی ہے۔اس کے سامنے قرآن مجید کا مبشر حکم پیش کیا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہوسکتا ہے ایک امر تم کو مکر وہ معلوم ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اسی میں بہتری رکھی ہو۔قرآن مجید کے اس حکم کوسن کر ایک نیک اور متقی نوجوان کا سرادب سے جھک جاتا ہے اور حضرت میر اسمعیل نے بھی اسے قبول کیا۔پھر اس خط میں بھائی کو اپنے مشورہ پر کار بند ہونے کے لئے ایسے رنگ میں اپیل کی ہے کہ بے اختیار ہر سلیم الفطرت انسان اس کی داد دے گا۔بڑی بہن کی اطاعت اور اس کی بات کو ماننا جو محض اس کے ہی فائدہ اور نفع کے لئے ہو۔ہر سعادت مند بھائی کا فرض ہے اس لئے آپ نے اپنے بھائی کی فطرت اور نیک خصلت پر غور کر کے یہ لکھا کہ تم میری بات مان لو گے تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔غرض جس جس قدر انسان اس خط پر غور کرتا ہے اور اس آئینہ میں حضرت اُم المؤمنین نصرت جہاں بیگم کے اخلاق حمیدہ کو دیکھتا ہے تو اسے آپ کی مظہر زندگی میں خدا تعالیٰ کی رضا ہی کے لئے ہر کام کرنے کی روح نظر آتی ہے۔حضرت ام المؤمنین کی تربیت ظاہر ہے کہ ایک نہایت دیندار اور متقی خاندان میں ہوئی تھی اور خدا تعالیٰ نے اپنی مشثیت میں انہیں ایسے جلیل القدر انسان کے حبالہ نکاح میں لانے کے لئے مقرر کر رکھا تھا۔جسے آنحضرت ﷺ نے اپنا سلام کہا اور جس کو اپنی امت کو ہلاکت سے بچانے والا قرار دیا۔پھر ایسے گھر میں آ کر وہ تمام جو ہر جو تقوی وطہارت کریم النفسی اور خدا ترسی کے تھے اجاگر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت اور اس کی مخلوق پر شفقت و ہمدردی نمایاں ہوگئی۔اس لئے ان کی ہر بات اور ہر تحریر میں خدا تعالیٰ پر توکل اور اس کی محبت و عظمت کا غلبہ نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام