سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 354 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 354

354 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کے قرب نے سونے پر سہا گہ کا کام کیا اور یہ ایک بین ثبوت خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک زندگی کا بھی ہے۔غرض بالآخر حضرت اُم المؤمنین کے مشورہ کو حضرت ڈاکٹر صاحب نے با انشراح صدر قبول کر لیا الحمد لله على ذالک یہ خط حضرت ام المؤمنین نے اپنے قلم سے لکھا تھا اس کا چر یہ کسی دوسری جگہ آپ کے خط کے نمونہ کے اظہار کے لئے دیا گیا ہے اور یہ خط ۱۹۰۶ء کا ہے۔جبکہ حضرت ڈاکٹر صاحب کی پہلی شادی کی تجویز ہور ہی تھی۔اس خصوص میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی خط لکھا تھا۔(عرفانی) بہن کی محبت و شفقت کا نمونہ ابھی میں نے حضرت میر اسمعیل صاحب کی زبان سے بیان کیا اور حضرت میر محمد اسحاق رضی اللہ عنہ پر جو شفقت تھی وہ تو اس سے ظاہر ہے کہ حضرت سیدہ نے اسے اپنا دودھ پلا یا بھائی اپنی بہن کی عزت و تکریم محض اس وجہ سے نہ کرتے تھے کہ وہ ان کی آپا جان ہے بلکہ ان کی ذاتی خوبیاں ان کے احسانات ان کی ہمدردی و خیر خواہی کی عملی صورتیں ایسی تھیں کہ ہر آن وہ اپنے ادب اور محبت کے مقام میں بڑھتے جاتے تھے۔حضرت سیدہ کے دامن شفقت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تربیت نے دونوں بھائیوں میں ایک خاص رنگ روحانیت کا پیدا کر دیا تھا۔میں اسی اثر کے دکھانے کے لئے ذیل میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا ایک خط درج کرتا ہوں۔جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر تعزیت کے طور پر حضرت اُم المؤمنین اپنی بہن کو لکھا۔اس خط سے روح رضا بالقضا نمایاں ہے۔از روجهان ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی مکرمہ مخدومه جناب ہمشیرہ صاحبہ - سلامت باشد! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کی خبر وحشت اثر معلوم ہو کر جو صدمہ ہوا اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔پر ساتھ ہی میرا تو یہ حال ہے کہ میں لکھتا جاتا