سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 249
249 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پورا اطمینان ، پور اسکون ، قلب میں موجود تھا۔اور اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر خاموش ہوگئیں۔یہ شان ہے حضرت اُم المؤمنین کے ایمان کی پختگی کی اور رضاء بالقضاء کی اور یہی ایک مسلمان عورت کی شان ہے۔حضرت اقدس نے اپنے مخلص مریدوں کو اس پیشگوئی کی وضاحت پر مفصل خط لکھے جو سلسلہ کے لٹریچر میں موجود ہیں۔الغرض صاحبزادہ بشیر اول خدا کے ان الہاموں کے ماتحت فوت ہو گیا۔آپ نے ایک اشتہا رلکھا جس پر یہ شعر لکھا۔بع اور تحریر فرمایا: ہم نے اُلفت میں تری بار اُٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا غرض جو اس کی نگاہ میں راستباز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اُٹھاتے چلے آئے ہیں۔سوچونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے۔اس لئے اگر ہم بھی خولیش و بیگانہ سے کچھ آزار اُٹھا ئیں تو ہمیں شکر بجالانا چاہئے اور خوش ہونا چاہئے کہ ہم اس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دُکھ دیئے جائیں اور ستائے جائیں“۔۳۶ پھر آپ نے ایک مفصل اشتہار بنام "حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر“ شائع کیا۔اس میں آپ نے بتلایا کہ یہ الہامی طور پر تصفیہ نہیں ہوا تھا کہ یہی وہ مصلح موعود دلڑکا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ اگر چہ بشیر اول اپنی ذاتی استعدادوں کے لحاظ سے بڑی عظمت اور شان والا لڑکا تھا اور یہ استعدادیں اس کے اندر اسی طرح موجود تھیں ، جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کے اندر نبوت کی استعداد موجود تھی۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔لو عاش ابراهـم لـكـان صديقا نبيا“۔ایسی ہی استعدادوں کے ساتھ یہ بشیر بھی آیا۔وہ کیوں فوت ہوا ؟ اس کی وفات کی یہی وجہ تھی کہ وہ خود مصلح موعود نہ تھا بلکہ جیسے حضرت اقدس نے سبز اشتہار کے