سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 250 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 250

250 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حاشیہ صفحہ ۲۱ پر لکھا ہے۔بشیر اول جو فوت ہو گیا ہے۔بشیر ثانی کے لئے بطور ار ہاص تھا۔وہ مصلح موعود کی پیشگوئی کی عظمت ظاہر کرنے کیلئے آیا تھا۔اگر بشیر اول زندہ رہتا تو لوگوں کی توجہ اس کی طرف ہوتی اور یہ قدرتی بات تھی حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ مصلح موعود نہ تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص نے اسے مصلح موعود کے لئے راستہ صاف کرنے کیلئے بھیجا تھا۔یہ مختصر حالات ہیں بشیر اول کے۔اس طرح وہ ۱۷ اگست ۱۸۸۷ء کو رات کے ڈیڑھ بجے کے قریب پیدا ہوا اور ۱۴ نومبر ۱۸۸۸ء بروز یکشنبہ اپنی عمر کے سولہویں مہینہ میں فوت ہو گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - بشیر اوّل تاریخ پیدائش ۱۷ اگست ۱۸۸۷ء تاریخ وفات ۱۴/ نومبر ۱۸۸۸ء عمر ۱۶ ماه اس کی شان ! مبشر ، بشیر ، نور اللہ ، صیب ، چراغ دین ،عنمو ائیل وغیرہ وغیرہ حضرت میرزا بشیرالدین محموداحمد خلیفه لمسیح الثانی جب بشیر اوّل اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت واپس بلا لیا گیا تو جیسے کہ میں لکھ چکا ہوں بہت بڑا زلزلہ نموا در ہوا۔خود حضرت اقدس نے حقانی تقریر میں لکھا کہ : عجیب طور کا شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اُٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نامنہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں۔مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت وافتراء ہے۔انہوں نے اس بچے کی وفات پر انواع واقسام کے افتراء گھڑنے شروع کئے۔‘۳۷ے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال دیگر انبیاء کے ساتھ یہ واقعہ ایسا تھا کہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دیگر انبیاء سے ایک بڑی مماثلت قائم کر