سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 248 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 248

248 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ مگر قدرت خدا کہ ایک سال کے بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہو گیا۔بس پھر کیا تھا ملک میں طوفان عظیم برپا ہوا اور سخت زلزلہ آیا۔حتی کہ میاں عبد اللہ صاحب سنوری کا خیال ہے کہ ایسا زلزلہ عامۃ الناس کیلئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا نہ اس کے بعد آیا۔گویا وہ دعوی مسیحیت پر جو زلزلہ آیا تھا۔اسے بھی عامتہ الناس کیلئے اس سے کم قرار دیتے ہیں۔مگر بہر حال یہ یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اُٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکہ لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل کے۔۔۔حضرت صاحب نے لوگوں کو سنبھالنے کیلئے اشتہاروں اور خطوط کی بھرمار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے۔ہاں یہ میں نے کہا تھا کہ چونکہ خاص اس لڑکے کے متعلق بھی مجھے بہت سے الہام ہوئے ہیں جن میں اس کی بڑی ذاتی فضیلت بتائی گئی تھی۔اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود دلڑکا ہو۔مگر خدا کی وحی میں جو اس معاملہ میں اصل اتباع کے قابل ہے، ہرگز کوئی تعین نہیں کی گئی تھی۔غرض لوگوں کو بہت سنبھالا گیا۔چنانچہ بعض لوگ سنبھل گئے۔لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا اور مخالفین میں پرلے درجہ کے استہزاء کا جوش تھا“۔یہ ایسا وقت تھا کہ دشمن تو دشمن اپنے بھی بہت خطرے میں پڑ گئے تھے۔حضرت ائم المؤمنین نے جو اس وقت رضاً بالقضاء کا نمونہ دکھایا اس کی یہ حالت تھی کہ آپ نے جب دیکھا کہ بچے کے اب بچنے کی کوئی صورت نہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں پھر اپنی نماز کیوں قضاء کروں۔چنانچہ آپ نے وضو کر کے نماز شروع کر دی اور نہایت اطمینان کے ساتھ نماز ادا کر کے دریافت فرمایا کہ بچے کا کیا حال ہے تو اس کے جواب میں بتلایا گیا کہ بچہ فوت ہو گیا ہے تو آپ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر خاموش ہو گئیں۔یہ واقعہ الحکم میں شائع شدہ موجود ہے۔اس وقت جب کہ چاروں طرف شور بے تمیزی مچ رہا تھا۔ایک زلزلہ آیا ہوا تھا۔ایک ماں کے ایمان کی پختگی کی ایسی مثال کم ملے گی کہ اپنے لخت جگر کو بستر مرگ پر چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے سکون قلب کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔جاؤ ڈھونڈ و! دیکھو کہ اس کی مثال کہیں نظر آتی ہے؟ ان کی زبان سے کوئی شکوہ ، کوئی کلمہ قابلِ اعتراض نہیں نکلا۔انہوں نے اپنے خاوند سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ تو اس لڑکے کے متعلق ایسا خیال کرتے تھے اب یہ کیا ہوا۔