سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 177 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 177

177 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھی جتنی تجھ میں طاقت کی تو نے میری خدمت خود کھایا روکھا سوکھا نعمت مجھے کھلائی عیبوں کو تو نے میرے اغیار سے چھپایا تھا تیرے بس میں جتنا عزت میری بنائی صدمہ سے میرے صدمہ تجھ کو ہوا ہمیشہ جب شاد مجھ کو پایا تو نے خوشی منائی تھی میرے دشمنوں کی تو جان و دل سے دشمن اور میرے دوستوں سے تیری رہی صفائی جو کچھ تھا میرا مذہب تھا وہی تیرا مشرب تھی تیرے دل میں الفت ایسی میری سمائی مجھ پر کیا تصدق جو تیرے پاس تھا زر یاں تک کہ پاس تیرے باقی رہی نہ پائی کرتا ہوں شکر حق کا جس نے تجھے ملایا اور میری تیری قسمت آپس میں یوں ملائی ہو تجھ پہ حق کی رحمت تجھ کو عطا ہو جنت اور میری تیری اک دم ہووے نہ واں جدائی آرام تجھ کو دیوے فضل و کرم سے مولیٰ ہر رنج و غم سے بخشے مالک تجھے رہائی ہرگز نہ تو دکھی ہو ہر وقت تو سکھی ہو بچوں کا عیش دیکھے تو اور تیری جائی فضل خدا کی بارش دن رات تجھ پہ برسے پانی میں مغفرت کے ہر دم رہے نہائی دولت ہو تجھ سے ہمدم عزت ہو ساتھ تیرے اولاد میں ہو برکت کہلائے سب کی مائی تیرا نہیں ہے ثانی لاکھوں کی تو ہے نانی عیسی سے کر کے رشتہ دولت یہ تو نے پائی اسلام پر جئیں ہم ایمان سے مریں ہم ہر دم خدا کے در کی حاصل ہو جبہ سائی جب وقت موت آوے بے خوف ہم سدہاریں دل پر نہ ہو ہمارے اندوہ ایک رائی مہدی کے مقبرہ میں ہم پاس پاس سوئیں دنیا کی کشمکش سے ہم کو ملے رہائی حضرت نانی اماں اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر جو حضرت اُم المؤمنین اور حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت میر محمد الحق صاحب کے وجودوں کے ذریعہ سے ہوا خدا کی شکر گزار تھیں۔حضرت نانی اماں کی شفقت علی الاولاد کا ایک واقعہ ایک دفعہ حضرت میر محمد اسحق صاحب سخت بیمار ہو گئے۔ان کی طبیعت زیادہ بیمار تھی۔ان ایام میں حضرت میر صاحب حضرت عرفانی کبیر سے کچھ ناراض ہو گئے تھے اور دونوں الگ الگ تھے۔کسی نے اس واقعہ کا ذکر حضرت نانی اماں سے کر دیا۔ان کو خیال گزرا کہ کہیں شیخ صاحب نے کوئی بددعا ہی