سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 178 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 178

178 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ نہ کر دی ہو جس کی وجہ سے میر الختِ جگر میرا بچہ بیمار ہو گیا اور اس قدر تکلیف اٹھارہا ہے۔وہ فوراًہمارے مکان پر آئیں اور گلی میں ڈیوڑھی کے دروازے پر آ کر بیٹھ گئیں اور کسی کو کہا۔شیخ صاحب کو اطلاع کر دو کہ نانی اماں آئی ہیں۔والد صاحب اسی وقت دوڑے ہوئے آئے۔نانی اماں کو یوں دروازے پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر گھبرائے۔قبل اس کے کہ ان کی سنیں انہوں نے نانی اماں کی اس حالت کو دیکھ کر اپنی پریشانی اور معذرت کا سلسلہ شروع کر دیا۔آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا۔آپ نے یہ تکلیف کیوں کی آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں اس قسم کی بہت سی باتیں کہہ ڈالیں۔نانی اماں نے میر صاحب کی طرف سے معذرت کی اور میر محمد الحق صاحب کی تکلیف کا رقت آمیز لہجے میں ذکر کر کے کہا کہ آپ کا دل دُکھا۔مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں آپ نے کوئی بددعا نہ کی ہو۔والد صاحب نے ان کو یقین دلایا کہ میں تو ان کی ناراضگی کا کبھی خیال نہیں کرتا وہ ہمارے فائدے کے لئے کہتے ہیں اور میں آپ کی اولاد کے لئے کیوں بد دعا کرنے لگا۔جب ان کو یقین آیا اور تسلی ہوئی تو واپس ہوئیں اس واقعہ سے ان کی شفقت علی الا ولا دکا پتہ چلتا ہے۔حضرت نانی اماں حضرت میر صاحب کی وفات کے بعد تقریباً آٹھ سال زندہ رہیں۔اخیر وقت تک وہ چلتی پھرتی رہتی تھیں اور عینک لگا کر پڑھ بھی لیتی تھیں۔حضرت میر صاحب کے ساتھ ان کا تعلق بہت وفادارا نہ تھا۔حتی کہ ایام ملازمت میں معمولی معمولی دیہات میں بھی وقت گزار لیا اور کوئی شکوہ نہ کیا۔اس قسم کے صبر ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت نانی اماں نے اپنی اولاد کے عروج کو دیکھا۔بیٹی ملی تو ایسی جو اُم المؤمنین کہلائی۔دا ما د ملا تو ایسا جو جری اللہ فی حلل الانبیاء تھا۔خاوند ملا تو وہ اپنی شان میں بینظیر۔بیٹے ملے تو ایسے عارف باللہ اور خادم دین۔انہوں نے سلسلہ کی ابتدائی حالت بھی دیکھی اور ترقی اور عروج بھی دیکھا۔انہوں نے صد با نشانات اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے۔قادیان کی ابتدائی حالت بھی دیکھی اور عروج بھی دیکھا۔بہر حال انہوں نے بہت کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا یہ سب کچھ دیکھ کر وہ۲۳ ۲۴ نومبر ۱۹۳۲ء کی درمیانی رات کو تقریباً ۸۵ سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ انہوں نے اپنی زندگی تقوی ، طہارت اور پاکیزگی سے گزاری اور وفات سے قبل ایک بڑی جماعت اپنی نسل در نسل لوگوں کی چھوڑی جو سب کے سب باخدا اور متقی اور پرہیز گار ہیں۔ایک بڑی