سید محموداللہ شاہ — Page 88
88 کہ اپنے ماتحت رفقاء کار کا بہت زیادہ خیال اور احترام فرمایا کرتے تھے۔سکول کے اساتذہ کو تو فرمایا کرتے تھے کہ اصل ہیڈ ماسٹر تو آپ لوگ ہیں میں تو برائے نام ہیڈ ماسٹر ہوں ایک دفعہ خاکسار کو عرق النساء کے درد کا عارضہ ہو گیا۔آپ خود میری عیادت کیلئے تشریف لائے اور فرمانے لگے۔مولوی صاحب اگر آپ پسند کریں تو بغرض علاج آپ کو لاہور بھجوا دیتا ہوں۔میں نے کہا جزاکم اللہ مجھے یہاں پر زیادہ سہولت ہے۔آج تک ان کی یہ مہربانی میرے دل پر نقش ہے۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے کہیں سے آپ کی ایک بڑی رقم لا کر انہیں دی اور ہاتھ میں دیتے وقت کہا۔شاہ صاحب رقم گن لیں۔فرمانے لگے آپ نے جو گنی ہوئی ہے۔رقم بغیر دیکھے اور گنے جیب میں رکھ لی۔سپردم بتو مانية خویش را تو دانی حساب کم و بیش را شاہ صاحب کو اپنے ساتھیوں پر پورا پورا اعتماد تھا۔اساتذہ کو چیک کرنے کا طریق ایک دفعہ میں کلاس کو پڑھا رہا تھا کہ آپ عقبی دروازہ سے داخل ہو کر خاموشی سے آکر طلباء کے ساتھ بیٹھ گئے۔مجھے چار پانچ منٹ بعد آپ کی موجودگی کا علم ہوا میں پڑھاتا رہا۔بعد میں آپ نے مجھے دفتر میں بلا کر میری حوصلہ افزائی کی اور فرمایا ماشاء اللہ آپ بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔جزاکم اللہ۔اگر کسی استاد کی کمزوری دیکھتے تو بغیر نام لئے واعظانہ طور پر سمجھا دیتے۔جب کوئی انسپکٹر معائنہ کیلئے آتا تو اس کی بہت تواضع اور اکرام کرتے اور وہ ان کے اخلاق سے بہت متاثر ہوتے۔ایک دفعہ ایک انسپکٹر نے کہا۔شاہ صاحب! ہم تو آپ سے کچھ سیکھنے کیلئے آتے ہیں۔