سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 89 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 89

89 حضرت شاہ صاحب کی پُر خلوص مساعی اور دعاؤں سے ہمارا سکول ہر میدان میں ضلع بھر میں اول آتا۔شروع شروع میں تو طلباء کے پاس پوری کتابیں بھی نہیں تھیں۔کھانے پینے کی اشیاء میں دقت تھی۔چنیوٹ میں بجلی بھی نہیں تھی پھر بھی ہمارا میٹرک کا نتیجہ شاندار ہوا کرتا تھا اور بعض طلباء بورڈ میں پوزیشن لیا کرتے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری برکتیں اس بزرگ وجود کی وجہ سے تھیں۔میں نے حضرت شاہ صاحب کو کبھی اپنے ماتحت اسا تذہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے نہیں دیکھا۔ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے۔ان کی خاموشی میں بھی ایک وقار اور رعب تھا۔مجھے اپنے زمانہ تعلیم میں چھ ہیڈ ماسٹروں کے تحت کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔تمام کے تمام هـر گـل رارنگ و بو دیگر است کے مصداق لیکن میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آپ جیسا فرشتہ سیرت اور طبع کسی کو نہیں پایا۔آپ ادنیٰ سے ادنی آدمی کی بات بھی بڑی توجہ اور دلچسپی سے سنتے۔بڑے وقار سے برا برلیکر چلتے ان کی چال وَيَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً کی عملی تفسیر ہو جایا کرتی تھی۔اساتذہ کیلئے حصن حصین آپ اپنے ماتحت اساتذہ کے وقار اور عزت کے بھی محافظ تھے۔گویا وہ اساتذہ کیلئے حصن حصین تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بورڈنگ کے ایک لڑکے کی نازیبا حرکت پر ایک شفیق تجربہ کار اور سینئر استاذ نے لڑکے کو سزا دی۔اس لڑکے نے ایک ذی اثر شخص کی انگیخت پر استاد صاحب کے خلاف ناظر صاحب تعلیم کی خدمت میں تحریری شکایت بھجوا دی۔نظارت تعلیم کی طرف سے وہ شکایت مکرم ہیڈ ماسٹر صاحب ( حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب) کے پاس بغرض تحقیق رپورٹ آ گئی۔شاہ صاحب نے متعلقہ استاد صاحب سے استفسار کیا۔شاہ صاحب استاد اور شاگرد کے رشتہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ناظر صاحب کی خدمت میں رپورٹ بھجوا دی کہ میں نے تحقیق کی ہے۔استاد صاحب نے عین میری منشاء کے مطابق سزا دی ہے