سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 45 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 45

45 قیام پاکستان کے بعد 4 نومبر ۱۹۴۷ کو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے عارضی طور پر چنیوٹ میں منتقل ہوا اس موقع پر حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب نے بطور ہیڈ ماسٹر ٹی آئی ہائی سکول چنیوٹ ذیل کا مضمون احباب کو تحریک دلانے کیلئے تحریر کیا۔”ہمارا تعلیم الاسلام ہائی سکول“ احباب کو معلوم ہے کہ حضرت (خلیفہ مسیح الثانی) نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے عملہ اور طلبہ کو حکم دیا ہے کہ وہ چنیوٹ (ضلع جھنگ) میں اپنا سکول جاری کر دیں۔چنانچہ سکول ہذا ۶ نومبر سے چنیوٹ میں آچکا ہے اور ایک مقامی ہندوسکول کی عمارت میں ہمارا سکول کھل چکا ہے۔جن اغراض کے پیش نظر حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ سے لگائے ہوئے اس باغیچہ کو یہاں منتقل فرمایا ہے وہ احباب جماعت سے مخفی نہیں۔حضور کو اپنی قوم کے نونہالان کی تعلیم و تربیت کا بے حد فکر ہے۔حضور اپنے بچوں کا کوئی وقت ضائع ہوتا دیکھنا گوارا نہیں فرماتے اور چاہتے ہیں کہ جس طرح بھی ہو طلباء اپنے سکول میں داخل ہو کر اپنا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچا ئیں اور تعلیم کے ساتھ تربیت جو ہمارے سکول کے اجرا کی اصل غرض تھی حاصل کر کے اپنے اور جماعت کیلئے مفید وجود ثابت ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے احباب کو معلوم ہے کہ ہمارے سکول کا سٹاف ہر طرح تعلیم و تربیت کے کام کیلئے موزوں ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس اخلاق اور محنت اور شوق سے ہمارا عملہ طلباء کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں رہتا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے اور اس کی وجہ وہ ذاتی نگرانی اور تربیت ہے جو حضرت (خلیفتہ اسیح الثانی ) از راہ شفقت روا فر ماتے ہیں ہمارے سکول کے طلباء کو حضرت (خلیفہ اسیح الثانی) وقتاً فوقتاً ضروری ہدایات اور نصائح سے سرفراز فرماتے ہیں اور بچوں کو اپنے رنگ میں رنگین کرنے اور مفید قومی کارکن بنانے کے لائحہ عمل پر کار بند رہنے کا اہتمام فرماتے ہیں۔ہمارے بچوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ خلیفہ المسیح مصلح الموعود ہمارے مربی ہیں اور اپنے بچوں کو حضور سے دور رکھنا نہ صرف ہمیں قرب الہی کے مواقع ہی حاصل کرنے سے محروم کر دیتا ہے بلکہ ایک بہت بڑی نیکی سے (بھی)۔