سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 44 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 44

44 لاہور پہنچا اور سیدنا حضرت مصلح موعود ( اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو) کے ارشاد پر ۶ رنومبر ۱۹۴۷ء کو لاہور سے چنیوٹ منتقل ہو گیا۔چنیوٹ پہنچ کر سکول کیلئے ملک بھگوان داس کی عمارت الاٹ کی گئی۔جہاں پہلے ہندو پناہ گزین ٹھہرے ہوئے تھے۔انہوں نے جاتے وقت سکول کی تمام کھڑکیاں ، دروازے، الماریاں اور دیگر سامان جلا ڈالا تھا حتی کہ روشن دان تک جل گئے تھے اور بیرونی چار دیواری بھی محفوظ نہ تھی۔اس صورت حال کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر جو اقدامات کئے گئے ان کا سہرا حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب اور بقیہ عملہ کے سر پر ہے۔چنیوٹ پہنچ کر سکول کے لئے جو اقدامات کئے گئے۔آپ نے احباب جماعت کو تحریک کرنے کیلئے ٹی آئی سکول چنیوٹ کے بارہ میں آگاہ کرنے کیلئے بعض مضامین بھی تحریر کئے جن کا مقصد یہ تھا کہ ۱۹۴۷ء کے نازک حالات میں طلباء کا تعلیمی مستقبل ضائع نہ ہو اور والدین بھی ان کی تعلیم وتربیت کے بارے میں فکرمند نہ ہوں۔چنانچہ آپ تحریر کرتے ہیں۔”اپنے۔اپنے بچے تعلیم کیلئے چنیوٹ بھیجے" تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بہترین اساتذہ اور بہترین طریقہ تعلیم میسر ہے۔احباب کو علم ہوگا کہ اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں طلباء کی تعداد اور تعلیمی ترقی کی رفتار دوسرے سکولوں کی نسبت روز افزوں ترقی پر ہے۔مگر چونکہ ہمارا اصلح نظر خصوصاً احمدی بچوں کی تربیت ہے اس لئے ہم احمدی والدین پر خاص طور پر زور دیں گے کہ وہ تکلیف اُٹھا کر بھی اپنے بچوں کو تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ میں بھیجیں۔سکول میں اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے بہترین قابلیت کے اساتذہ موجود ہیں جو سکول ٹائم کے علاوہ بھی بچوں کی بورڈنگ میں تعلیم (پر) مقرر ہیں اور اساتذہ اپنی نگرانی میں تمام طلباء کی پابندی اوقات کا خیال رکھتے ہیں۔آپ کو یقین ہو جائے گا کہ تعلیم کے ابتدائی دور میں اس قسم کی بہترین تربیت کے سامان اور کسی سکول میں بھی میسر نہیں۔اوسط ماہوار خرچ صرف ہیں روپے فی طالب علم ہے۔(روز نامه الفضل لا ہور ۲۷ جنوری ۱۹۴۸ صفحه ۶ )