سید محموداللہ شاہ — Page 46
46 اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اُس کے منشاء کے ماتحت قادیان میں ہمارا سکول ہر لحاظ سے ایک معیاری سکول بن رہا تھا لیکن منشاء الہی یہی تھا کہ ہم آزمائش کی منازل طے کریں اور اپنا کام گویا از سر نو شروع کریں۔گویا یہ ہمارے امتحان کا وقت ہے اس وقت جو سنبھل گئے اور ابرا نیمی طیوری کی طرح خود اور اپنے بچوں کو حقیقی مربی کے گرد جمع کر دیا وہ یقیناً اپنی زندگی کے مقصد کے حصول میں کامیاب ہونگے اخلاص اور ایمان زلازل اور مصائب میں ہی پر کھا جاتا ہے۔اس وقت جو دوست قربانی کریں گے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب گردانے جائیں گے۔سکول میں تعلیم کیلئے بچوں کو پہنچانا بھی حضور کے ایک اہم مطالبہ کو پورا کرنا ہے اپنے بچوں کو آپ نے تعلیم تو دلانا ہی ہے اور اگر تھوڑ اسا اور خرچ کر کے آپ جماعتی اور قومی تربیت بھی دلا سکیں اور حضرت (خلیفتہ المسیح الثانی) کی خواہش پوری کر سکیں تو کس قدر خوش قسمتی کا موجب ہو۔چنیوٹ میں ویسے رہائش اور خوراک پر خرچ بھی نہایت مناسب آئے گا کیونکہ ضروریات زندگی یہاں نسبتا ارزاں قیمت پر مہیا ہو سکتی ہیں۔صحت کے لحاظ سے بھی یہ جگہ مناسب معلوم ہوتی ہے پاکستانی دوستوں کو تو اپنے بچوں کو یہاں بھجوانا کوئی خاص مشکل نظر نہیں آتا۔اس لئے دوستوں کو اس طرح خاص طور پر توجہ دینی چاہئے سکول کے طلباء کی موجودہ تعداد نہایت ناتسلی بخش ہے اور مالی لحاظ سے سکول کو جاری رکھنا سراسر دشوار ہے۔صدرانجمن پر پہلے ہی مالی بوجھ کافی ہے جو ضروری امور اس وقت تک جاری ہیں۔ان میں سے سکول کو جاری رکھنا بھی قومی زندگی کیلئے از بس ضروری ہے لیکن اگر دوست اس فرض کی ادائیگی سے قاصر رہے اور انہوں نے فوری طور پر اپنے فرض کو نہ پہچانا تو اس کے نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہونگے۔روزنامه الفضل لاہور ۲۸ / نومبر ۱۹۴۷ ، صفحه ۵) ٹی آئی ہائی سکول چنیوٹ کے ابتدائی حالات چنیوٹ پہنچ کر مکرم سید محمود اللہ شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول نے فوری طور پر تمام انتظام سنبھالا۔مختلف اساتذہ کو ضروریات زندگی کی بہم رسانی پر مقرر کیا گیا۔بعض کو راشن فراہم کرنے کیلئے اور بعض کو حصول مکانات پر مقرر فرمایا۔اسی دوران میں سردیوں کیلئے لحاف،