سید محموداللہ شاہ — Page 39
39 بیان کیا ہے اور یہ نظم ان کے صاحبزادوں کے واقعہ قتل کے بعد کی ہے۔اگر گورو گوبند سنگھ جی اپنے معصوم بچوں کے قتل میں ذرہ بھی حضرت اور نگ زیب کا دخل سمجھتے تو ہرگز ان کی نیکی کی تعریف نہ کرتے اور اپنے اشعار میں یہ نہ کہتے کہ اگر حکم ہو تو جان و مال لے کر حاضر خدمت ہو جاؤں۔آپ نے بیان فرمایا کہ یہ محض دھوکہ دہی اور تاریخ کو بگاڑ کر مسلمانوں اور سکھوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔تحقیقات سے ثابت ہے کہ سر ہند کے غیر مسلم دیوان نے اپنے ذاتی عناد کی بناء پر گروجی کے بچوں کو قتل کرایا تھا اور جب حضرت اور نگ زیب کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے نواب سرہند کو سخت سزا دی۔گرو گوبند سنگھ جی ان حالات کو بخوبی جانتے تھے۔چنانچہ انہوں نے اپنے تعلقات بادشاہ وقت سے بدستور قائم رکھے۔بالآ خر فرمایا کہ ( دین ) حق اور صداقت کی تعلیم دیتا ہے۔ہمیں امام جماعت احمد یہ (خلیفتہ المسیح الثانی) کی یہی تعلیم ہے کہ ہم حق اور راستبازی پر قائم رہیں۔لہذا اگر کسی (مومن) کا قصور کسی معاملہ میں ثابت ہو تو ہم کھلم کھلا اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور ہرگز اس لئے اس کی حمایت نہ کریں گے کہ وہ ہمارا ہم مذہب ہے۔ہمیں تاریخ سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اور نگ زیب کا اس معاملہ میں کچھ دخل نہ تھا۔لہذا ہم سچائی کے اظہار کے طور پر پورے ثبوت رکھتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں۔تقریر کے خاتمہ پر سکھ صاحبان نے شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا۔یہ جماعت احمدیہ کا ہم پر احسان ہے کہ ایسے زریں خیالات سننے کا ہمیں موقعہ ملا ہے۔ہم بھی جماعت احمدیہ کے بزرگوں کا پورا پورا احترام کرتے ہیں۔امید ہے کہ صاحب آئندہ بھی یہاں تشریف لا کر ہمیں فائدہ پہنچائیں گے۔دونوں گوردواروں میں ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کا وقت تھا اور بفضلہ تعالیٰ ایک ہزار سے زائد معزز افراد نے ان خیالات کو سنا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے ہم سب کو اپنی ہدایت اور قرب اور محبت کے راستہ پر چلائے۔“ (روز نامه الفضل قادیان ۳ مئی ۱۹۴۱ صفحه ۵)