سید محموداللہ شاہ — Page 38
38 پھر کہا ” میں نے حضرت مرزا صاحب کی کتاب ”پیغام صلح پڑھی ہے اور میں جماعت احمدیہ کے قیام امن اور اتحاد و اخوت کو ترقی دینے والی مساعی کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں اور میرا دلی یقین ہے کہ اب دنیا میں حضرت مرزا صاحب کی تعلیم کے ذریعہ ہی امن قائم ہوگا“۔گذشتہ سال یہاں ایک نیا گوردوارہ بنا جس کے افتتاح کے وقت جماعت احمدیہ کے افراد موجود تھے اور ایک احمدی نے تقریر کی جس میں بتایا کہ ہمیں معابد کا پورا احترام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور ہماری اپنی عبادت گاہ ہر مذہب والوں کے لئے کھلی ہے جو وہاں اپنے طریق پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتے ہیں۔اس پر سکھ اصحاب نے بھی اعلان کیا کہ احمدی ہمارے گوردوارہ میں اپنی نماز جب چاہیں ادا کر سکتے ہیں۔الغرض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے احمدیت کی تعلیم پر عمل کرنے کی وجہ سے یہاں ہمارے تعلقات ہندوؤں اور سکھوں سے بھائیوں کے سے ہیں اور ہمارے معزز سکھ اور ہندو بھائی ہمیشہ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمارے پیشواؤں کی ایسی ہی عزت کرتے ہیں جیسی کہ اپنے گوروؤں اور بزرگوں کی۔احمدیوں کا تو یہ مذہبی فرض ہے اور وہ تو ہر حال میں دوسرے مذاہب کے سب بزرگان کی پوری پوری عزت واحترام کرتے ہیں۔آج سکھ بھائیوں کا ایک مذہبی تہوار تھا جس میں دو گوردواروں میں تقریر کرنے کیلئے انہوں نے محترمی محمود اللہ شاہ صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ نیروبی کو دعوت دے رکھی تھی۔ایک گوردوارہ کے کارکنوں نے ساری جماعت کو دعوت طعام بھی دی۔محترمی شاہ صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا۔ہم حضرت بابا گورو نانک رحمۃ اللہ علیہ کی ویسی ہی عزت کرتے ہیں جیسی کہ دوسرے اولیا ء اور بزرگوں کی۔حضرت بابا صاحب نے بھی دنیا کے اتحاد و اتفاق کے لئے بہت کوشش کی ہے۔گورو گوبند سنگھ جی کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے فرمایا وہ حضرت اور نگ زیب رحمۃ اللہ علیہ سے بہت محبت رکھتے تھے جیسا کہ ان کے فارسی اشعار سے پایا جاتا ہے جن میں انہوں نے اور نگ زیب عالمگیر کو نہایت سخنی ، عمده سیاست دان، خدا کے نور سے منور اور فرشتہ خصلت