سوشل میڈیا (Social Media)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 130

سوشل میڈیا (Social Media) — Page 71

بیٹھے ہیں تو بیٹھے چلے جائیں گے۔نیند آ رہی ہے تب بھی وہ بیٹھے دیکھتے رہیں گے۔نہ بچوں کی پرواہ ، نہ بیوی کی پرواہ تو ایسے لوگ بھی ہیں۔پس یہ جو عادتیں ہیں، یہ عملی اصلاح میں روک کا بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔“ حضور انور نے مزید فرمایا: عورتوں کے لئے بھی میں ایک مثال دوں گا۔پردہ اور حیا کی حالت ہے۔اگر ایک دفعہ یہ ختم ہو جائے تو پھر بات بہت آگے بڑھ جاتی ہے۔آسٹریلیا میں مجھے پتہ چلا ہے کہ بعض بڑی عمر کی عورتوں نے جو پاکستان سے وہاں آسٹریلیا میں اپنے بچوں کے پاس نئی نئی گئی تھیں، اپنی بچیوں کو یہ دیکھ کر کہ پردہ نہیں کرتیں انہیں پردے کا کہا کہ کم از کم حیا دار لباس پہنو، اسکارف لو تو اُن کی لڑکیوں میں سے بعض جو ایسی ہیں کہ پردہ نہ کرنے والی ہیں، انہوں نے یہ کہا کہ یہاں پردہ کرنا بہت بڑا جرم ہے اور آپ بھی چھوڑ دیں تو مجبوراً ان عورتوں نے بھی جو پردہ کا کہنے والی تھیں، جن کو ساری عمر پر دے کی عادت تھی اس خوف کی وجہ سے کہ جرم ہے، خود بھی پردہ چھوڑ دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں کوئی ایسا قانون نہیں ہے، نہ جرم ہے۔کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس طرف توجہ دیتا ہے۔صرف فیشن کی خاطر چند نوجوان عورتوں اور بچیوں نے پردے چھوڑ دیتے ہیں۔پاکستان سے شادی ہو کر وہاں آنے والی ایک بچی نے مجھے لکھا کہ مجھے بھی زبر دستی پر دہ چھڑوا دیا گیا تھا۔یا ماحول کی وجہ سے میں بھی کچھ اس دام میں آ گئی اور پردہ چھوڑ دیا۔اب میں جب وہاں دورے پر گیا ہوں تو اُس نے لکھا 71