سوچنے کی باتیں — Page 12
16 15 کرے۔آخر وہ جنید بغدادی کے پاس پہنچے کہ اس اس طرح مجھ سے قصور ہوئے ہیں اور اب میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ انہوں نے کہاہاں قبول ہوسکتی ہے مگر ایک شرط پر ، پہلے اسے مانو شبلی نے کہا مجھے وہ شرط بتا ئیں، میں ہر شرط ماننے کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا اس شہر میں جاؤ جہاں تم گورنر رہے ہو اور ہر گھر پر دستک دے کر کہو کہ میں تم سے معافی مانگتا ہوں اور جو جو ظلم تم نے کئے تھے ان کی لوگوں سے معافی لو۔انہوں نے کہا منظور ہے چنانچہ وہ گئے اور انہوں نے ہر دروازہ پر دستک دینی شروع کر دی جب لوگ نکلتے وہ کہتے کہ میں شبلی ہوں جو یہاں کا گورنر تھا میں قصور کرتا رہا ہوں۔خطائیں کرتا رہا ہوں اور تم لوگوں پر ظلم کرتا رہا ہوں، اب میں اس کی معافی طلب کرتا ہوں لوگ کہہ دیتے کہ اچھا ہم نے معاف کردیا لیکن نیکی کا بیج ہمیشہ بڑھتا اور رنگ لاتا ہے دس ہیں گھروں سے گذرے تو سارے شہر میں آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ وہ گورنر جو کل تک اتنا ظالم مشہور تھا وہ آج ہر دروازہ پر جا جا کر معافیاں مانگ رہا ہے اور لوگوں کے دلوں میں روحانیت کا چشمہ پھوٹا اور انہوں نے کہا، ہمارا خدا کتنا زبردست ہے کہ ایسے ایسے ظالموں کو بھی نیکی اور توبہ کی توفیق عطا فرما دیتا ہے چنانچہ پھر تو یہ ہو کہ بلی ، جنید کے کہنے کے ماتحت ننگے پاؤں ہر دروازہ پر جا کر دستک دیتے تھے لیکن بجائے اس کے کہ دروازہ کھل کر شکوہ اور شکایت کا دروازہ کھلتا اندر سے روتے ہوئے لوگ نکلتے اور کہتے تھے کہ آپ ہمیں شرمندہ نہ کریں آپ تو ہمارے لئے قابل قدر وجود ہیں اور ہمارے روحانی بزرگ ہیں۔آپ ہمیں اس طرح شرمندہ نہ کریں۔غرض سارے شہر سے انہوں نے معافی لی اور پھر وہ جنید کے پاس آئے اور انہوں نے توبہ قبول کی اور انہیں اپنے شاگردوں میں شامل کیا اور اب وہ مسلمانوں کے بڑے بڑے اولیاء میں سے سمجھے جاتے ( سیر روحانی جلد دوم صفحه ۱۶ تا ۱۶۳) ہیں۔غیرت کی مثال وہ کیا چیز تھی جس کی وجہ سے باوجود دشمن کے زیادہ اور قوی ہونے کے مسلمان کامیاب ہوئے۔وہ غیرت تھی جس کے ماتحت اتنا بڑا کام ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی حکومت قائم ہوگئی۔اس زمانہ میں بھی ہمیں ایک نظیر ملتی ہے۔یونان اور ترکوں کی ایک دفعہ جنگ ہوئی۔یونانیوں کا گمان تھا کہ ہمیں بیرونی ممالک کی مدد سے ترکوں کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوگی۔یونانیوں کے پاس ایک قلعہ تھا جو ایک پہاڑی پر واقع تھا اور ایسے موقع پر تھا کہ وہاں سے اگر گولہ باری ہوتی تو تمام یونان کو جانے والے راستوں پر گولے پڑتے تھے۔یورپ کی وہ حکومتیں جنہوں نے یونان کو انگیخت کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ چھ مہینہ تک یہ قلع فتح نہیں ہوسکتا اور اتنے عرصہ میں روس وغیرہ حکومتوں کی طرف سے یونانیوں کے لئے کمک پہنچ جائے گی اور پھر ترکوں کا مار لینا کچھ بھی مشکل نہ ہوگا۔ان لوگوں میں بھی مذہب کی ظاہری حالت کے لئے ایک غیرت تھی۔ترکوں کا ایک مشہور جرنیل ( جس کا نام غالبا ابراہیم پاشا تھا) ترکوں کی فوج کا افسر تھا۔اس نے حکم دیا کہ یونان کی طرف بڑھو۔جب لشکر بڑھا تو یونانیوں کی طرف سے اس شدت سے گولہ باری ہوئی کہ قدم اٹھانا مشکل ہو گیا اور پہاڑی کی بلندی کی وجہ سے اس پر سیدھا چڑھنا مشکل تھا اور سپاہیوں نے درخواست کی کہ ہمیں بوٹ اتارنے کی اجازت دی جائے مگر افسر نے اجازت نہ دی اور خود ان کے لئے نمونہ بن کر آگے بڑھا۔اس گولیوں کے مینہ کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا۔تھوڑی ہی دور چل کر گولی لگی اور جرنیل زخمی ہو کر گرا۔اس کے گرتے ہی سپاہی اس کو اٹھانے کے لئے آگے بڑھے۔مگر www۔alislam۔org