سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 11

14 13 بادشاہ کی خلعت اور شبلی کی تو بہ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے۔شبلی ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں یہ امیر گھرانے کے تھے اور بغداد کے بادشاہ کے گورنر تھے وہ کسی کام کے متعلق بادشاہ سے مشورہ کرنے کے لئے اپنے صوبہ سے دار الحکومت میں آئے انہی دنوں ایک کمانڈرانچیف ایران کی طرف ایک ایسے دشمن کے مقابلہ میں بھیجا گیا تھا جس سے کئی فوجیں پہلے شکست کھا چکی تھیں، اس نے دشمن کو شکست دی اور ملک کو دوبارہ مملکت میں شامل کیا ، جب وہ واپس آیا تو بغداد میں اس کا بڑا بھاری استقبال کیا گیا۔اور بادشاہ نے بھی ایک در بار خاص منعقد کیا تا کہ اسے انعام دیا جائے اور اس کے لئے ایک خلعت تجویز کیا جو اس کے کارناموں کے بدلہ میں اسے دیا جانا تھا مگر بدقسمتی سے سفر سے آتے ہوئے اسے نزلہ ہو گیا، دوسری بد قسمتی یہ ہوئی کہ گھر سے آتے ہوئے وہ رومال لا نا بھول گیا جب اس کو خلعت دیا گیا تو دستور کے مطابق اس کے بعد اس نے تقریر کرنی تھی کہ میں آپ کا بڑا ممنون ہوں، آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے اور میری تو اولا دور اولا داس چار گز کپڑے کے بدے میں آپ کی غلام رہے گی ، مگر جب وہ تقریر کے لئے آمادہ ہورہا تھا تو یک دم اسے چھینک آئی اور ناک سے بلغم ٹپک پڑا۔بلغم کے ساتھ اگر وہ تقریر کرتا تو شاید قتل ہی کر دیا جاتا۔اس نے گھبراہٹ میں ادھر اُدھر ہاتھ مارا جب دیکھا کہ رومال نہیں ملا تو نظر بچا کر اسی جبہ سے اس نے ناک پونچھ لی ، بادشاہ نے اسے دیکھ لیا وہ کہنے لگا اتار لواس خبیث کا خلعت ، یہ ہماری خلعت کی ہتک کرتا ہے اور ہمارے دیئے ہوئے تحفہ سے ناک پونچھتا ہے، اس نے یہ کہا اور شبلی نے اپنی کرسی پر چیخ ماری اور رونا شروع کر دیا چونکہ دل میں نیکی تھی اور تقویٰ تھا، خدا نے ان کی ہدایت کے لئے ایک موقعہ رکھا ہوا تھا انہوں نے چیخ ماری تو بادشاہ نے کہا خفا ہم اس پر ہوئے ہیں تم کیوں روتے ہو وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا بادشاہ میں اپنا استعفاء پیش کرتا ہوں۔بادشاہ نے کہا یہ کیا بے وقت کی راگنی ہے کیا ہوا تم کو اور کیوں تم استعفاء پیش کرتے ہو۔انہوں نے کہا بادشاہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔اس نے کہا آخر ہوا کیا۔انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ یہ شخص آج سے دو سال پہلے اس جگہ سے نکلا تھا اور ایک ایسی مہم پر بھیجا گیا تھا جس میں ملک کے بڑے بڑے بہادر جرنیل شکست کھا کر آئے تھے اور ایک ایسے علاقہ کی طرف بھیجا گیا تھا جس کا دوبارہ فتح کرنا بالکل ناممکن سمجھا جاتا تھا یہ دو سال باہر رہا یہ جنگلوں میں گیا، یہ پہاڑوں میں گیا اور اس نے دشمن سے متواتر لڑائیاں کیں یہ ہر روز مرتا تھا۔ہر صبح مرتا تھا اور ہر شام مرتا تھا۔ہر شام اس کی بیوی سوچتی تھی کہ صبح میں بیوہ ہو کر اٹھوں گی اور ہر صبح جب وہ اٹھتی تھی تو خیال کرتی تھی کہ شام مجھ پر بیوگی کی حالت میں آئے گی۔ہر شام اس کے بچے سوتے تھے تو سمجھتے تھے کہ صبح ہم یتیم ہوں گے اور ہر صبح اس کے بچے اٹھتے تھے تو وہ خیال کرتے تھے کہ شام کو ہم یتیم ہوں گے ایک متواتر قربانی کے بعد اس نے اتنا بڑا ملک فتح کیا اور آپ کی مملکت میں لا کر شامل کیا۔اس کے بدلہ میں آپ نے اس کو چند گز کپڑا دیا جس کی حیثیت ہی کیا تھی مگر محض اس لئے کہ اس نے مجبوراً اس خلعت سے ناک پونچھ لیا آپ اس پر اتنا خفاء ہوئے پھر میں کیا جواب دوں گا اس خدا کے سامنے جس نے مجھے یہ جسم ایسا دیا ہے جس کو کوئی بادشاہ بھی نہیں بنا سکتا جس نے مجھے یہ خلعت دی ہے اور میں اس کو تیری خاطر گندہ کر رہا ہوں میں اس کے متعلق اپنے خدا کو کیا جواب دوں گا۔یہ کہہ کر وہ دربار سے نکل گئے مگر وہ اتنے ظالم اور جابر تھے کہ جب مسجد میں گئے اور انہوں نے کہا کہ میں تو بہ کرنا چاہتا ہوں تو ہر ایک نے یہی کہا کہ کمبخت کیا شیطانوں کی تو یہ بھی کہیں قبول ہوسکتی ہے، نکل جایہاں سے۔انہوں نے ہر جگہ پھرنا شروع کیا مگر کسی کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ ان کی توبہ قبول www۔alislam۔org