سوچنے کی باتیں — Page 13
18 17 اس نے انہیں کہا کہ تم کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ اور یہیں پڑا رہنے دو۔اگر تم نے مجھے عزت کے ساتھ دفن کرنا ہے تو اس کا ایک ہی مقام ہے اور وہ اس قلعہ کی چھت ہے۔پس یا تو مجھے اس جگہ دفن کرو ورنہ یہیں پڑا رہنے دو کہ چیلیں اور کتے میرا گوشت نوچ کرکھا جاویں۔چونکہ اس افسر کا تعلق فوج سے بہت اعلیٰ درجہ کا تھا۔اس کی یہ بات ایک چنگاری بن گئی۔جس نے سپاہ کی غیرت کو بارود کی طرح آگ لگا دی اور اب ان کے سامنے سوائے اس قلعہ کی فتح کے اور کوئی مقصد نہ رہا۔اور وہ لوگ ایک منٹ میں کچھ کے کچھ بن گئے اور چیچنیں مارتے ہوئے اسی آگ کی بارش میں قلعہ کی طرف بڑھے اور اس طرح قلعہ کے اوپر چڑھ گئے۔لکھا ہے کہ ان کے ہاتھوں کے پپوٹے اور ناخن تمام پتھروں سے رگڑ کر اڑ گئے۔مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قلعہ فتح ہو گیا اور ترکوں کا وہاں جھنڈا گڑ گیا اور اس پاشا کو وہاں دفن کیا گیا۔پس جب غیرت آتی ہے تو کوئی بات انہونی نہیں رہتی۔(انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۱۴ - ۱۵) دوست آن باشد بچے وفادار کی یہی علامت ہوتی ہے، وہ اپنے دوست اور محبوب کے لئے اپنی ہر چیز قربان کرنے لئے تیار ہو جاتا ہے کجا یہ کہ ایسا محبوب اور دلدار ہو جو نہ صرف محبوب اور دلدار ہو بلکہ انسان کا خالق اور مالک اور آقا بھی ہو۔قصہ مشہور ہے کہ ایک نوجوان اپنے باپ کا مال دوستوں کے ساتھ مل کر اڑانے کا عادی تھا۔ہر وقت اس کے اردگرد خوشامدیوں کا ہجوم رہتا اور وہ دن رات روپیہ کو برباد کرتے رہتے۔اس کا باپ اسے ہمیشہ نصیحت کرتا کہ یہ خوشامدی اور خود غرض نوجوان ہیں انہیں تم سے حقیقی محبت نہیں۔تم ان پر اپنا روپیہ بر با دمت کرو۔مگر وہ اپنے باپ کی نصیحت کو کبھی تسلیم نہ کرتا اور یہی جواب دیتا کہ یہ میرے بچے دوست ہیں۔باپ نے کہا۔تمہیں اتنے دوست کہاں سے مل گئے مجھے تو ساری عمر میں صرف ایک دوست ملا ہے اور تمہاری یہ حالت ہے کہ تمہارے ارد گرد ہر وقت دوستوں کا ہجوم رہتا ہے۔جب بہت عرصہ گزر گیا اور باپ کی نصیحت اس نے تسلیم نہ کی تو ایک دن باپ نے اسے کہا اگر تمہیں میری بات پر اعتبار نہیں تو تجربہ کرلو اور اپنے دوستوں کا امتحان لے لو۔پھر تمہیں خود بخود پتہ لگ جائے گا کہ تمہارے کتنے حقیقی دوست ہیں۔اس نے کہا میں اپنے دوستوں کا کس طرح امتحان لوں۔باپ نے کہا۔کہ تم ہر دوست کے مکان پر جاؤ اور اسے کہو کہ میرے باپ نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے اور جائداد سے مجھے بے دخل کر دیا ہے مجھے اس وقت کچھ روپیہ دیا جائے تا کہ میں روزگار کا انتظام کرسکوں۔جب وہ اپنے دوستوں کے مکانوں پر گیا۔اور انہیں معلوم ہوا کہ اسے باپ نے گھر سے نکال دیا ہے تو کسی نے اندر سے کہلا بھیجا کہ میں بیمار ہوں افسوس www۔alislam۔org