سرّالخلافة — Page 82
سر الخلافة ۸۲ اردو تر جمه وما كان له من الدنيا إلا ما كان اور جس نے دنیا سے صرف اسی قدر حصہ لیا جتنا ميرة ضروراته، فكيف تظن أنه ظلم اس کی ضرورتوں کے لئے کافی تھا تو پھر تو کیسے آل رسول الله مع أن الله فضله على خیال کر سکتا ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی كلهم بحسن نياته، وجعله من آل پر ظلم روا رکھا ہوگا۔باوجود یکہ اللہ نے آپ المؤيدين۔وليس كل نزاع مبنيا علی کو آپ کی حسن نیت کی وجہ سے ان سب پر فساد النيات كما زعم بعض متبعى فضيلت عطا فرمائی ہوئی تھی اور آپ کو اپنا تائید الجهلات، بل رُبَّ نزاع يحدث یافتہ بنایا ہوا تھا اور ہر جھگڑا نیتوں کے فساد پر مبنی من اختلاف الاجتهادات۔فالطريق نہیں ہوتا جیسا کہ جہالت کے بعض پیروکاروں الأنسب والمنهج الأصوب أن نقول نے خیال کیا ہے بلکہ اکثر جھگڑے اجتہادات إن مبدأ التنازعات في بعض صحابہ کے اختلاف سے پیدا ہوتے ہیں۔سب۔خير الكائنات كانت الاجتهادات زیادہ مناسب اور درست طریق یہی ہے کہ ہم لا الظلامات والسيئات کہیں کہ خیر الکائنات کے بعض صحابہ میں والمجتهدون معفوون ولو كانوا آغاز تنازعات دراصل اجتہادات تھے نہ کہ ظلم مخطئين۔وقد يحدث الغل اور بدیوں کا ارتکاب۔اور مجتہد اگر چہ خطا کار والحقد من التنازعات فی ہوں وہ قابل معافی ہوتے ہیں۔کبھی کبھی صلحاء الصلحاء ، بل في أكابر الأنقياء بلکہ اکابر اتقیاء اور اصفیاء کے تنازعات میں بھی والأصفياء ، وفي ذلك مصالح كين اور بغض پیدا ہو جاتا ہے۔اور اس میں اللہ لله ربّ العالمين۔رب العالمین کی مصلحتیں ہوتی ہیں۔فكلما جرى فيهم أو لہذا جو کچھ بھی ان (صحابہ) کے درمیان خرج من فيهم، فيجب واقع ہوا یا ان کی زبانوں سے نکلا اسے بیان أن يُطْوَى لا أن يُروى کرنے کی بجائے اسے لپیٹ دینا ہی مناسب ہے