سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 259

سرّالخلافة — Page 83

سر الخلافة ۸۳ اردو تر جمه ويجب أن يُفوَّض أمورهم إلى اور اُن کے اُن امور کو اللہ کے حوالہ کرنا جو کہ الله الذي هو ولى الصالحين صالحين كا متولی ہے واجب ہے۔اس کی وقد جرت سُنته أنه يقضى بين سنت جاریہ یہی ہے کہ وہ صالحین کے الصالحين على طريق لا يقضى علیه درمیان ایسے طریق پر فیصلے فرماتا ہے جس قضايا الفاسقين، فإنهم كلّهم أحباؤه طريق پر وہ فاسقوں کے فیصلے نہیں فرمایا وكلهم من المحبين المقبولین، کرتا۔کیونکہ وہ سب اس کے پیارے اور ولأجل ذلك أخبرنا ربنا عن اس کی بارگاہ میں محبوب اور مقبول ہیں۔اس مآل نزاعهم وقال وهو لئے ہمارے رب نے جو اصدق الصادقین أصدق القائلين۔وَنَزَعْنَا مَا فِي ہے ہمیں ان کے باہمی نزاع کے انجام کی صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٌ اِخْوَانًا عَلى نسبت یہ بتایا ہے کہ وَنَزَعْنَا مَا فِي سُرُرٍ مُتَقبِلِينَ۔هذا هو الأصل صُدُورِهِمْ مِنْ غِلِ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ الصحيح، والحق الصريح، ملین سے یہ ہے وہ صحیح اصل اور صریح حق۔ولكن العامة لا يُحققون فى أمر ليكن عامۃ الناس کسی معاملے میں اہلِ كأولي الأبصار، بل يقبلون بصیرت کی طرح تحقیق نہیں کرتے۔بلکہ القصص بغض الأبصار ، ثم آنکھیں بند کر کے قصوں کو قبول کر لیتے ہیں۔يزيد أحد منهم شيئا علی پھر ان میں سے کوئی ایک اصل منقول میں کسی الأصل المنقول، ويتلقاه الآخر قدر اضافہ کر دیتا ہے اور دوسرا اسے قبول کر بالقبول، ویزید علیہ شیئا لیتا ہے اور اپنی طرف سے اس میں کچھ اور آخر من عند نفسه، ثم يسمعه بڑھا دیتا ہے۔اور پھر تیسرا بڑے اشتیاق ثالث بشدة حرصه فیؤمن به سے اسے سنتا اور اس پر ایمان لے آتا ہے ا اور ہم ان کے دلوں سے جو بھی کہتے ہیں نکال باہر کریں گے۔وہ بھائی بھائی بنتے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔(الحجر: ۴۸)