سرّالخلافة — Page 77
سر الخلافة اردو تر جمه فالحق أن الصديق والفاروق سچ تو یہ ہے کہ (ابوبکر) صدیق اور (عمر) كانا من أكابر الصحابة وما ألتا فاروق دونوں اکابر صحابہ میں سے تھے۔ان دونوں الحقوق، واتخذا التقویٰ نے ادائیگی حقوق میں کبھی کوتا ہی نہیں کی انہوں شرعة، والعدل نُجُعة، وكانا نے تقویٰ کو اپنی راہ اور عدل کو اپنا مقصود بنالیا تھا۔ينقبان عن الأخبار ويفتشان من وہ حالات کا گہرا جائزہ لیتے اور اسرار کی کنہ تک پہنچ أصل الأسرار، وما أرادا أن جاتے تھے۔دنیا کی خواہشات کا حصول کبھی بھی يُلفيا من الدنيا بغية، وبذلا ان كا مقصود نہ تھا۔انہوں نے اپنے نفوس کو اللہ کی النفوس لله طاعةً۔وإني لم ألق اطاعت میں لگائے رکھا۔کثرت فیوض اور نبی كالشيخين في غزارة فيوضهم الثقلین کے دین کی تائید میں شیخین (یعنی ابو بکر وعمر ابوبکر و تأييد دين نبي الثقلين۔كانا رضی اللہ عنہما ) جیسا میں نے کسی کو نہ پایا۔یہ دونوں أسرع من القمر فى اتباع ہی آفتاب اُم و ملل (ع) کی اتباع میں شمس الأمم والزمر، وكانا في ماہتاب سے بھی زیادہ سریع الحرکت تھے اور آپ حبه من الفانين۔واستعذ با کل کی محبت میں فنا تھے۔انہوں نے حق کے حصول کی عذاب لتحصيل صواب خاطر ہر تکلیف کو شیر میں جانا۔اور اس نبی کی خاطر ورضوا بكل هوان للنبى الذى جس کا کوئی ثانی نہیں ، ہر ذلت کو برضا و رغبت ليس له ثان، وظهرا كالأسود گوارا کیا۔اور کافروں اور منکروں کے لشکروں عند تلقى القوافل والجنود من اور قافلوں سے مٹھ بھیڑ کے وقت شیروں کی ذوى الكفر والصدود ، حتی طرح سامنے آئے۔یہاں تک کہ اسلام غالب غلب الإسلام وانهزم الجمع، آگیا۔اور دشمن کی جمعیتوں نے ہزیمت وانزوى الشرك وانقمع اٹھائی۔شرک چھٹ گیا اور اس کا قلع قمع ہو گیا وأشرقت شمس الملة والدين۔اور ملت و مذہب کا سورج جگمگ جگمگ کرنے لگا