سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 259

سرّالخلافة — Page 76

سر الخلافة اردو تر جمه فلا بد لهم أن يقولوا إنه أبو بكر۔تو انہیں یہ کہے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا کہ ابوبکر۔پھر ثم إذا سئل من كان جامع القرآن جب یہ پوچھا جائے کہ ملک ملک میں اشاعت ليشاع في البلدان، فلا بد لهم ان کے لئے قرآن کو جمع کرنے والا کون تھا ؟ تو لا محالہ يقولوا إنه أبو بكر۔ثم إذا سئل کہیں گے کہ وہ (حضرت ) ابوبکر تھے۔پھر جب من دفن بجوار خير المرسلین یہ پوچھا جائے کہ خیر المرسلین اور سید المعصومین وسيد المعصومين، فلا بد لهم أن کے پہلو میں کون دفن ہوئے تو یہ کہے بغیر انہیں يقولوا إنه أبو بكر وعمر۔فالعجب کوئی چارہ نہ ہوگا کہ وہ ابو بکر اور عمرؓ ہیں۔تو پھر كل العجب أن كل فضيلة أُعطيت كتنے تعجب کی بات ہے کہ (معاذ اللہ ) ہر فضیلت للكافرين المنافقین، و کل خیر کافروں اور منافقوں کو دے دی گئی۔اور اسلام کی الإسلام ظهرت من أيدى المعادين تمام تر خیر و برکت دشمنوں کے ہاتھوں سے ظاہر أيزعم مؤمن أن أوّل لبنة ہوئی۔کیا کوئی مومن یہ خیال کر سکتا ہے کہ وہ شخص لإسلام كان كافرا ومن اللئام؟ جو اسلام کے لئے خشتِ اوّل تھا وہ کا فراورلیم ثم أوّل المهاجرين مع فخر تھا ؟ پھر وہ کہ جس نے فخر المرسلین کے ساتھ سب المرسلين كان كافرًا ومن سے پہلے ہجرت کی وہ بے ایمان اور مرتد تھا؟ اس المرتدين؟ وكذلك كل فضيلة طرح تو ہر فضیلت کا فروں کو حاصل ہو گئی۔یہاں حصلت للكفار حتی جوار قبر سید تک کہ سید الابرار کی قبر کی ہمسائیگی بھی ! اور علی الأبرار، وكان على من المحرومين حرماں نصیب رہے۔اور اللہ ان کی مدد کی طرف ومـا مـال إليه الله بالعدوى وما مائل نہ ہوا اور نہ ہی اپنی کسی نوازش سے انہیں أجدى من جدوى، كأنه ما عرفه نوازا۔گویا وہ انہیں جانتا پہچانتا ہی نہ ہو اور عدم وأخطأ من التنكير واحرورف فی شناخت کی وجہ سے غلطی کھائی اور صحیح راہ سے ہٹ المسير، وإن هذا إلا كذب مبين۔گیا ہو۔یہ تو ایک کھلا جھوٹ ہے۔يبدو انه سهو، والصحيح الاسلام “۔(الناشر)