سرّالخلافة — Page 78
سر الخلافة ۷۸ اردو تر جمه وكـانـت خـاتـمـة أمرهما جوار اور مقبول دینی خدمات بجالاتے ہوئے اور خير المسلمين، مع خدمات مسلمانوں کی گردنوں کو لطف و احسان سے مرضية في الدين، وإحسانات زیر بار کرتے ہوئے ان دونوں کا انجام ومنن على أعناق المسلمين خير المرسلين کی ہمسائیگی پر منتج ہوا۔اور یہ اُس وهذا فضل من الله الذى لا اللہ کا فضل ہے جس کی نظر سے متقی پوشیدہ نہیں تخفى عليه الأتقياء ، وإن اور بے شک فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ الفضل بيد الله يؤتيه من يشاء ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔جو شخص بکمال من اعتلق بذيله مع کمال میله شوق اللہ کے دامن سے وابستہ ہو جاتا ہے تو وہ فإن الله لن يُضيعه ولو عاداه اُسے ہرگز ضائع نہیں کرتا، خواہ دنیا بھر کی ہر چیز كل ما في العالمين، ولا يرى اُس کی دشمن ہو جائے۔اور اللہ کا طالب کسی طالبه خسرًا ولا عسرًا ولا يذر نقصان اور تنگی کا منہ نہیں دیکھتا۔اور اللہ صادقوں الله الصادقين۔کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔الله أكبر ما أعظم شأن اللہ اکبر! ان دونوں ( ابو بکر و عمر) کے صدق و خلوص سرهما وصدقهما دفنوا فی کی کیا بلندشان ہے۔وہ دونوں ایسے (مبارک) مدفن مدفن لو كان موسى وعيسی میں دفن ہوئے کہ اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو حيين لتمناها غبطة، ولكن لا بصدر شک وہاں دفن ہونے کی تمنا کرتے۔لیکن یہ يحصل هذا المقام بالمنية، ولا مقام محض تمنا سے تو حاصل نہیں ہوسکتا اور نہ صرف يعطى بالبغية، بل هي رحمة خواہش سے عطا کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ تو بارگاہ رب أزلية من حضرة العزة، ولا العزت کی طرف سے ایک ازلی رحمت ہے اور یہ تتوجه إلا إلى الذين توجهت رحمت صرف انہی لوگوں کی طرف رُخ کرتی ہے العناية إليهم من الأزل، جن کی طرف عنایت (الہی ) ازل سے متوجہ ہو۔