سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 259

سرّالخلافة — Page 67

سر الخلافة ۶۷ اردو تر جمه اعلموا، رحمكم الله، أن الصحابة اللہ آپ لوگوں پر رحم فرمائے۔جان لو کہ سارے كلهم كانوا کجوارح رسول الله کے سارے صحابہ رسول اللہ ﷺ کے اعضاء و صلعم وفخر نوع الإنسان، فبعضهم جوارح کی طرح تھے اور نوع انسان کے فخر تھے۔كانوا كالعيون وبعضهم كانوا خدائے رحمن کے رسول حملے کے لئے ان میں كالآذان، وبعضهم كالأيدى وبعضهم سے بعض آنکھوں جیسے تھے، بعض کانوں کی طرح كالأرجل من رسول الرحمان، وكلّ اور بعض اُن میں سے ہاتھوں کی مانند اور بعض ما عملوا من عمل أو جاهدوا من پاؤں کی طرح تھے۔ان صحابہ نے جو بھی کام کئے یا جهد فكانت كلها صادرة بهذه جو بھی سعی فرمائی وہ سب کچھ ان اعضاء کی مناسبت المناسبات، وكانوا يبغون بها مرضاة سے صادر ہوئے۔اور ان کی غرض اس سے محض رب الكائنات رب العالمين۔فالذي رب کائنات، رب العالمین کی رضا جوئی تھی۔اور يقول أن الأصحاب الثلاثة كانوا من جو شخص یہ کہتا ہے کہ اصحاب ثلاثہ کا فر، منافق یا الكافرين والمنافقين أو الغاصبين فلا غاصب تھے۔بلکہ وہ سب کو ہی کا فرقرار دیتا ہے يُكفّر إلا كلهم أجمعين لأن الصحابة كيونكہ سب صحابہ نے حضرت ابوبکر کی ، پھر حضرت كلهم كانوا بايعوا أبا بكر ثم عمر ثم عمر کی اور پھر حضرت عثمان رضی الله عنهم عثمان رضى الله عنهم وأرضى و ارضی کی بیعت کی تھی۔ان (خلفاء) کے وشهدوا المعارك والمواطن عظيم احکام کی تعمیل کرتے ہوئے وہ معرکوں اور بأحكامهم العظمى، وأشاعوا لڑائیوں میں شریک ہوئے اور انہوں نے الإسلام وفتحوا ديار الكافرين فما اسلام کی اشاعت کی اور کافروں کے ممالک فتح أرى أجهل من الذى يزعم أن کئے۔میری نظر میں اس شخص سے بڑھ کر کوئی المسلمين ارتدوا كلهم بعد وفاة جاہل نہیں جو یہ خیال کرتا ہے کہ رسول اللہ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تمام مسلمان مرتد ہو گئے تھے