سرّالخلافة — Page 68
سر الخلافة ۶۸ اردو تر جمه كأنه يكذب كل مواعيد نصرة اس طرح گویا وہ ان تمام وعدوں کو جھٹلاتا ہے جو الإسلام التي مذكورة فى كتاب اسلام کی نصرت کے بارے میں علام خدا کی الله العلام، فسبحان ربنا حافظ کتاب میں مذکور ہیں۔پس پاک ہے ہمارا رب جو الملة والدين۔هذا قول أكثر ملت (اسلام) اور دین کا محافظ ہے۔شیعوں کی الشيعة، وقد تجاوزوا الحد فی اکثریت کا یہ قول ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں تطاول الألسنة، وغضوا من نے زبان درازی میں حد سے تجاوز کیا اور حق کی الحق عينهم، فكيف ينتظم طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔پھر ہمارے اور الوفاق بيننا وبينهم؟! وكيف ان کے درمیان کیسے موافقت راہ پاسکتی ہے؟ اور يرجع الأمر إلى ودادٍ، وإنهم لفی جبکہ وہ ایک وادی میں ہیں اور ہم دوسری وادی میں وادٍ ونحن في وادٍ ؟ والله يعلم أنا تو پھر محبت کیسے راہ پا سکتی ہے؟ اللہ خوب جانتا ہے من الصادقين۔کہ ہم صادقوں میں سے ہیں۔يا حسرة عليهم إنهم لا يستفيقون وائے حسرت ان پر ، کہ یہ تعصبات کی غشی من غَشَى التعصبات، ولا يكفكفون سے ہوش میں نہیں آرہے۔اور نہ بہتان من البهتانات۔أعجبنى شأنهم وما طرازی سے باز آ رہے ہیں۔ان کی حالت أدرى ما إيمانهم، إنهم كفروا نے مجھے تعجب میں ڈالا ہے اور میں نہیں الأصحاب الثلاثة وحسبوهم جانتا کہ ان کا ایمان کیسا ہے؟ انہوں نے من المنافقين المرتدين، مع أن اصحاب ثلاثہ کو کا فر ٹھہرایا اور انہیں منافق اور القرآن ما بلغهم إلا من أيدى مرتد گردانا با وجودیکه قرآن انہیں کفار تلك الكافرين، فلزمهم أن کے ہاتھوں ہی ان تک پہنچا۔پس ان کے لئے يعتقدوا أن القرآن الموجود یہ لازم ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھیں کہ لوگوں کے في أيدى الناس ليس بشیء ہاتھوں میں موجود قرآن کچھ بھی چیز نہیں