سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 259

سرّالخلافة — Page 65

سر الخلافة اردو تر جمه وكان ينتظر نصرة النبي المبغي وہ پہلے ہی سے نبی مظلوم (ﷺ) کی نصرت کے عليه إلى أن آلت هذه الحالة منتظر تھے۔یہاں تک کہ جب نوبت یہاں تک پہنچ سے إليه، فرافقه في شجون من جد گئی تو آپ نے پوری سنجیدگی اور عواقب۔ومجون، وما خاف قتل لا پرواہ ہو کرھم و غم میں آپ کا ساتھ دیا اور قاتلوں الـقـاتـليـن فـفـضـيـلته ثابتة من ے قتل کے منصوبہ سے خوفزدہ نہ ہوئے۔پس آپ جلية الحكم والنص المحكم کی فضیلت حکم صریح اور نص محکم سے ثابت ہے اور وفضله بین بدلیل قاطع آپ کی بزرگی دلیل قطعی سے واضح ہے اور آپ کی وصدقه واضح كصبح ساطع صداقت روز روشن کی طرح درخشاں ہے۔آپ نے إنه ارتضى بنعماء الآخرة آخرت کی نعمتوں کو پسند فرمایا اور دنیا کی ناز و نعمت وترك تنعم العاجلة، ولا يبلغ کو ترک کر دیا۔دوسروں میں سے کوئی بھی آپ فضائله أحد من الآخرين۔کے ان فضائل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔و إن سألت أن الله لِمَ آثَرَه اگر تم یہ پوچھو کہ اللہ نے سلسلۂ خلافت کے لصدر سلسلة الخلافة، وأتى سر آغاز کے لئے آپ کو کیوں مقدم فرمایا اور اس كان فيه من ربّ ذى الرأفة، میں رب رؤف کی کیا حکمت تھی ؟ تو جاننا چاہئے فاعلم أن الله قد رأى أن الصديق کہ اللہ نے یہ دیکھا کہ حضرت صدیق اکبر رضی رضي الله عنه وأرضى آمن مع الله عنه وارضی ایک غیر مسلم قوم میں سے بکمال رسول الله صلعم بقلب أسلم في قلب سلیم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں قوم لم يسلم، وفي زمان كان اور ایسے وقت میں ایمان لائے جب نبی اللہ صلی الله وحيدًا، وكان الفساد الله عليه وسلم یک و تنہا تھے اور فساد بہت شدید تھا۔شديدا، فرأى الصديق بعد هذا پس حضرت صدیق اکبر نے اس ایمان لانے الإيمان أنواع الذلة والهوان کے بعد طرح طرح کی ذلت اور رسوائی دیکھی نبى