سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 259

سرّالخلافة — Page 55

سر الخلافة اردو تر جمه فيفرون ممتعضين ولا اس کے باوجود وہ ناراض ہو کر فرار ہو جاتے ہیں اور يتفكرون كالمنصفين۔فها أنا انصاف سے کام لینے والوں کی طرح غور وفکر نہیں عوهم إلى أمر يفتح عينهم کرتے۔لواب میں انہیں ایک ایسے امر کی طرف بلاتا وسواء بيننا وبينهم، أن نحاضر ہوں جو اُن کی آنکھیں کھول دے گا اور جو ہمارے في مضمار ، و نتضرع في اور اُن کے درمیان یکساں ہے۔یہ کہ ہم دونوں فریق حضرة رب قهار، ونجعل لعنة ایک میدان میں حاضر ہوں اور رپ قہار کے حضور الله على الكاذبين۔گریہ وزاری کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔فإن لم يظهر أثر دعائى إلى سنة، اگر پھر بھی ایک سال تک میری دعا کا اثر فأقبل لنفسي كل عقوبة، وأقر ظاہر نہ ہو تو میں اپنے لئے ہر سز ا قبول کرلوں گا بأنهم كانوا من الصادقين، ومع اور اقرار کرلوں گا کہ وہ سچے تھے۔علاوہ ازیں ذلك أعطى لهم خمسة آلاف من میں انہیں پانچ ہزار روپے سکہ رائج الوقت بھی الدراهم المروجة، وإن لم أعط دوں گا۔اور اگر یہ رقم نہ دوں تو روز قیامت تک فلعنة الله على إلى يوم الآخرة۔مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔اور اگر وہ چاہیں تو وإن شاء وا فأجمع لهم تلك میں یہ رقم حکومت برطانیہ کے خزانے میں الدراهم في مخزن دولة البريطانة يا معززین میں سے کسی کے پاس جمع کرادوں أو عند أحد من الأعزّة۔بيد أني گا۔البتہ میرے مخاطب عوام الناس نہیں ہیں لا أُخاطب كل أحد من العامة، إلا صرف وہ شخص ہے جو میرے اس رسالے کے الذي ينسج رسالة على منوال هذه اسلوب پر رسالہ مرتب کرے۔اور یہ طریق الرسالة۔وما اخترت هذا المنهج ميں نے محض اس لئے اختیار کیا ہے تا کہ مجھے یہ إلا لأعلم أن المباهل المناضل معلوم ہو سکے کہ مد مقابل مباہلہ کرنے والا | مـن أهـل الـفـضـيـلـة والـفـطـنـة | شخص (واقعی) اہلِ فضیلت و دانش میں سے ہے۔