سرّالخلافة — Page 29
سر الخلافة ۲۹ اردو تر جمه فأخاف عليه من سوء مجھے اس کے بدانجام اورسلپ ایمان کا ڈر الخاتمة وسلب الإيمان ہے۔اور جنہوں نے ان کو دکھ دیا، اُن پر لعن کیا والذين آذوهم ولعنوهم اور بہتان لگائے تو دل کی سختی اور خدائے رحمن ورموهم بالبهتان، فكان آخر کا غضب اُن کا انجام ٹھہرا۔میرا بارہا کا تجربہ أمرهم قساوة القلب و غضب ہے اور میں اس کا کھلے طور پر اظہار بھی کر چکا الرحمان۔وإني جربت ہوں کہ ان سادات سے بغض و کینہ رکھنا برکات مرارا وأظهرتها إظهارا ، أن ظاہر کرنے والے اللہ سے سب سے زیادہ قطع 10 بغض هؤلاء السادات من تعلقی کا باعث ہے اور جس نے بھی ان سے أكبر القواطع عن الله مظهر دشمنی کی تو ایسے شخص پر رحمت اور شفقت کی سب البركات، ومن عاداهم فتغلق راہیں بند کر دی جاتی ہیں اور اس کے لئے علم و عليه سُدَدُ الرحمة والحنان، ولا عرفان کے دروازے وا نہیں کئے جاتے اور اللہ تفتح له أبواب العلم والعرفان انہیں دنیا کی لذات و شہوات میں چھوڑ دیتا ہے ويتركه الله فی جذبات الدنیا اور نفسانی خواہشات کے گڑھوں میں گرا دیتا وشهواتها، ويسقط في وهاد ہے۔اور اسے (اپنے آستانے سے ) دور رہنے النفس وهواتها، ويجعله من والا اور محروم کر دیتا ہے۔انہیں (خلفاء راشدین المبعدين المحجوبين۔وإنهم كو اسى طرح اذیت دی گئی جس طرح نبیوں کو أو ذوا كما أُو ذى النبيون، ولعنوا دی گئی اور ان پر لعنتیں ڈالی گئیں جس طرح كما لعن المرسلون، فحقق مرسلوں پر ڈالی گئیں۔اس طرح اُن کا رسولوں کا بذلك ميراثهم للرسل، وتحقق وارث ہونا ثابت ہو گیا۔اور روز قیامت ان کی جزاؤهم كأئمة النحل والملل جزا اقوام و ملل کے ائمہ جیسی متحقق ہو گئی۔کیونکہ في يوم الدين۔فإن مؤمنا إذا لعن جب مؤمن پر کسی قصور کے بغیر لعنت ڈالی جائے