سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 259

سرّالخلافة — Page 30

سر الخلافة اردو تر جمه " وكفر من غير ذنب، ودعی اور کافر کہا جائے اور بلا وجہ اس کی ہجو کی جائے اور بهجو وسبّ من غير سبب اُسے بُرا بھلا کہا جاوے تو وہ انبیاء کے مشابہ ہو جاتا فقد شابة الأنبياء وضاهی ہے۔اور اللہ کے ) برگزیدہ بندوں کی مانند بن الأصفياء ، فسيُجزى كما جاتا ہے پھر اُسے بدلہ دیا جاتا ہے جیسا نبیوں کو بدلہ يُجزى النبيون، ویری الجزاء دیا جاتا ہے۔اور مرسلوں جیسی جزا پاتا ہے۔یہ كالمرسلين۔ولا شك أن هؤلاء لوگ بلاشبہ حضرت خیر الانبیاء کی اتباع میں عظیم كانوا على قدم عظیم فی اتباع مقام پر فائز تھے۔اور جیسا کہ بزرگ و برتر اللہ نے خير الأنبياء ، وكانوا أُمّةً وسطا ان کی مدح فرمائی وہ ایک اعلیٰ امت تھے۔اور اس كما مدحهم ذو العز والعلاء نے خود اپنی روح سے ان کی ایسی ہی تائید فرمائی وأيدهم بروح منه كما أيّد كل جیسے وہ اپنے تمام برگزیدہ بندوں کی تائید فرماتا أهل الاصطفاء۔وقد ظهرت أنوار ہے اور فی الحقیقت ان کے صدق کے انوار اور صدقهم و آثار طهارتهم كأجلی ان کی پاکیزگی کے آثار پوری تابانی سے ظاہر الضياء، وتبين أنهم كانوا من ہوئے۔اور یہ کھل کر واضح ہو گیا کہ وہ بچے تھے۔الصادقين۔ورضی اللہ عنہم اور اللہ ان سے اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور ورضوا عنه ، وأعطاهم ما لم اس نے انہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو دنیا جہاں میں يُعط أحد من العالمين۔أهم کسی اور کو نہ دیا گیا تھا۔کیا وہ منافق تھے! كانوا منافقين؟ حاشا وکلا، بل حَاشَا وَ كَلَّا (ایسا ہر گز نہ تھا بلکہ حقیقت یہ جل معروفهم وجلى، وإنهم ہے کہ ان کی نیکیاں عظیم اور درخشاں تھیں۔وہ یقیناً كانوا طاهرين۔لا عيب كتطلب | پاکباز تھے۔ان کے عیوب اور ان کی لغزشوں کی مثالبهم وعثراتهم، ولا ذنب جستجو کرنے سے بڑھ کر کوئی عیب نہیں اور ان کے كتفتيش معائبهم وسيئاتهم نقائص اور برائیوں کی تلاش سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔۔