سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 259

سرّالخلافة — Page 28

سر الخلافة ۲۸ اردو تر جمه و من سبهم بلسان سلیط و غیظ اور جس نے زبان درازی کر کے اور غیظ و غضب مستشيط، وما انتهى عن اللعن سے مشتعل ہو کر انہیں گالیاں دیں اور لعن اور طعن والطعن وما ازدجر من الفحش سے باز نہ آیا نہ ہی فحش گوئی اور بکو اس سے رُکا بلکہ والهذيان، بل عزا إليهم أنواع ہر قسم کا ظلم اور غصب اور زیادتی ان کی طرف الظلم والغصب والعدوان، فما منسوب کی تو دراصل اس نے خود اپنے آپ پر ہی ظلم إلا نفسه، وما عادى إلا ظلم کیا اور صرف اپنے رب سے ہی دشمنی کی۔صحابہ ربّه، وإن الصحابة من ان تہمتوں سے بری ہیں پس ایسی راہوں پر چلنے کی المبرئين۔فلا تجترئوا على جرات نہ کرو کیونکہ یہ سب بہت بڑی ہلاکت کی تلك المسالك، فإنها من راہیں ہیں۔لہذا ہر لعنت ڈالنے والے شخص کو أعظم المهالك، وليعتذر کل چاہئے کہ وہ اپنی زیادتیوں سے توبہ کرلے۔اور اللہ لعان من فرطاته، وليتق الله اور اس کے مواخذے کے دن سے ڈرے۔اور ويوم مؤاخذاته، وليتق ساعة اس گھڑی سے ڈرے جو خطا کاروں کے افسوس تهيج أسف المخطئين، وتُرِی میں ہیجان برپا کر دے گی اور دشمنی کرنے والوں کی ناصية العادين۔وأيم الله إنه پیشانی دکھا دے گی۔اور بخدا، اللہ تعالیٰ نے شیخین تعالى قد جعل الشيخين (ابوبکر و عمر) کو اور تیسرے جو ذوالنورین ہیں ہر والثالث الذى هو ذو النورین، ایک کو اسلام کے دروازے اور خیر الانام ( محمد رسول كأبواب للإسلام وطلائع فوج الله کی فوج کے ہراول دستے بنایا ہے۔پس جو شخص خير الأنام، فمن أنكر شأنهم ان کی عظمت سے انکار کرتا ہے اور ان کی قطعی دلیل وحقر برهانهم، وما تأدب کو حقیر جانتا ہے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش معهم بل أهانهم، و تصدی نہیں آتا بلکہ ان کی تذلیل کرتا اور اُن کو بُرا بھلا سب و تطاول اللسان، کہنے کے در پے رہتا اور زبان درازی کرتا ہے للسب