سرّالخلافة — Page 167
سر الخلافة ۱۶۷ اردو تر جمه وتنكرون ولا تخافون؟ و حصحص اور انکار کرتے ہو اور خوف نہیں کرتے۔حق کھل کر الحق وأنتم تعرضون و جاء الوقت ظاہر ہو چکا اور تم اعراض کرتے ہو۔اور وقت آ گیا وأنتم تبعدون۔ومن سُن الله القديم اور تم اُس سے دور بھاگتے ہو۔ازلی خدا کی جاری المستمرة الموجودة إلى هذا اور اس زمانہ تک موجود سنت جس کا جاہلوں اور الزمان التي لم تنكرها * أحد صاحب عرفان لوگوں میں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا من الجهلاء وذوى العرفان، أنه ہے یہ کہ کبھی وہ اپنی اہم آئندہ کی خبروں میں ایک قد يذكر شيئًا أو رجُلا في أنبائه چیز یا ایک شخص کا ذکر فرماتا ہے۔حالانکہ اُس کے المستقبلة، ويريد منه شيئًا آخر از لی ارادہ میں اُس سے کوئی دوسری چیز یا دوسرا شخص أو رجُلا آخر في الإرادة الأزلية مراد ہوتا ہے۔بسا اوقات ہم خواب میں دیکھتے ہیں وربما نرى في منام أن رجلا کہ ایک شخص کسی جگہ سے آیا ہے لیکن وہ نہیں آتا جاء من مقام فلا يجيء من جسے ہم نے (خواب میں) دیکھا ہوتا ہے بلکہ وہ رأيناه بل يجيء من ضاهاه في شخص آ جاتا ہے جو بعض صفات میں اُس کا مشابہ ہوتا بعض الصفات أو شابهه في ہے یا بعض خوبیوں یا برائیوں میں اس سے مشابہت الحسنات أو السيئات وأقص رکھتا ہے۔میں تمہیں ایک عجیب واقعہ اور غیر معمولی عليك قصة عجيبة وحكاية حكایت بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میرا ایک چھوٹا بیٹا غريبةً إن لى كان ابنا صغيرًا تھا اُس کا نام بشیر تھا جسے اللہ نے شیر خواری کی عمر میں و كان اسمه بشيرا، فتوفاه وفات دے دی۔اور اللہ بہتر اور سب سے بڑھ کر باقی الله في أيام الرضاع، والله خیر رہنے والا ہے اُن کے لئے جو تقوی اور پر ہیز گاری وأبقى للذين آثروا سبل التقوی کی راہوں کو مقدم رکھتے ہیں۔پس مجھے میرے ربّ والارتياع فـالهـمـتُ من ربی کی طرف سے الہام ہوا کہ ہم تجھ پر فضل فرماتے إنا نردّه إليك تفضلا عليك۔ہوئے اُس (بشیر ) کو تیری طرف لوٹا دیں گے۔هذا سهو الناسخ والصحيح ” ينكرها “۔(الناشر)